غزہ: غزہ میں ہسپتال عملی طور پر غیرفعال ہو چکے جبکہ ایک مریض کیلئے پینے کے پانی کی مقدار 300 ملی لٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
غزہ کی وزارت صحت کے ترجمان کے مطابق شہر میں بجلی کی کٹوتی اور ایندھن کی کمی کی وجہ سے علاقے کے ہسپتال عملی طور پر تباہی کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جنوبی غزہ کے 90 فیصد گھروں میں پانی نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی سفاکیت کی انتہا، غزہ میں ہسپتال پر فضائی حملہ، 800 سے زائد فلسطینی شہید
غیر ملکی نشریاتی ادارے کے مطابق پانی کی سپلائی کم ہونے کے باعث ڈاکٹر ہر مریض کو روزانہ 300 ملی لیٹر پینے کا پانی دے رہے ہیں، خان یونس کے گلی کوچوں میں لوگ پانی اور روٹی مانگنے کیلئے قطار میں کھڑے ہیں۔
دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے غزہ کی ابتر صورتحال کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 24 گھنٹے میں ہرصورت امداد کی ضرورت ہے، بمباری کا نشانہ بننے والے علاقوں میں امدادی سامان بھیجنے کی اجازت دی جائے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کر گئی جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، 12 ہزار 500 سے زائد افراد زخمی ہیں۔







































