ایران کے اسرائیلی فوج کے کمانڈ اینڈ انٹیلی جنس ہیڈکوارٹرز اور انٹیلی جنس کیمپ پر میزائل حملے، 30 افراد زخمی
یمنی حوثیوں نے بھی اسرائیل پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے
ایران نے اسرائیل پر تازہ میزائل حملوں میں صہیونی فوج کے کمانڈ اینڈ انٹیلی جنس ہیڈکوارٹرز اور انٹیلی جنس کیمپ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، اسرائیلی حکام نے تازہ حملوں میں کم ازکم 30 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کردی جبکہ اسرائیلی وزیراعظم نے ایران پر سوروکا ہسپتال کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے حوالے سے بتایا ہے کہ جمعرات کی صبح کیے گئے ایرانی حملے کے مرکزی اہداف اسرائیلی فوج کا کمانڈ اینڈ انٹیلیجنس ہیڈکوارٹر اور سوروکا اسپتال کے قریب واقع اسرائیلی فوج کا انٹیلی جنس کیمپ تھے۔-
روسی خبر رساں ادارے ’آر ٹی‘ نے ایران کے تازہ حملوں کے بعد اپنے ایکس ہینڈل پر متعدد پوسٹس شیئر کی ہیں جن سوروکا ہسپتال اور تل ابیب اسٹاک ایکسچینج اور دیگر عمارتوں کو پہنچنے والے نقصانات کو دیکھا جاسکتا ہے۔
ایرانی حملے کے بعد تل ابیب اسٹاک ایکسچینج سمیت دیگر عمارتوں کو خالی کرالیا گیا۔
تہران ٹائمز کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کے کمانڈ اینڈ انٹیلی جنس ہیڈکوارٹر کے علاوہ بییر شیبع میں واقع گیو یام ٹیکنالوجی پارک میں ایک فوجی انٹیلیجنس تنصیب میزائلوں کا ہدف تھی۔
ایرانی حکام نے کہا ہے یہ علاقہ جنوبی اسرائیل کے بڑے طبی مراکز میں سے ایک، سوروکا میڈیکل سینٹر کے قریب واقع ہے، ذرائع نے تسلیم کیا ہے کہ دھماکے کی لہر سے ہسپتال کو معمولی نقصان پہنچا، لیکن یہ واضح کیا کہ فوجی تنصیبات ہی اصل اور درست ہدف تھیں۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران کے میزائل حملے میں جنوبی اسرائیل کے شہر بیر شیبا میں سروکا ہسپتال کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں 30 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں 3 شدید زخمی بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے تازہ میزائل حملوں کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ’آج صبح ایران کے دہشت گرد ظالموں نے بیئر شیبع میں سوروکا اسپتال اور ملک کے وسطی حصے میں شہری آبادی پر میزائل داغے، ہم تہران کے ظالم حکمرانوں سے اس کا پورا حساب لیں گے‘۔
اس سے قبل، ایران نے اسرائیلی جارحیت کیخلاف ’آپریشن وعدہ صادق 3‘ کے تحت بدھ کی رات کو اسرائیل پر میزائلوں کی نئی لہر سے جوابی حملہ کیا ہے، اب تک ایک شہری کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔
اسرائیلی مسلح افواج ( آئی ڈی ایف ) نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کے طور پر بیلسٹک میزائلوں کا نیا حملہ کیا گیا ہے، جس کے بعد وسطی اسرائیل سمیت مختلف علاقوں میں شہریوں کے لیے سائرن بجائے گئے ہیں، تاہم تاحال کسی علاقے میں میزائل ٹکرانے یا نقصان پہنچنے کی اطلاعات نہیں ملی ہیں۔
دی ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق میگن ڈیوڈ آڈوم کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ایک روکے گئے بیلسٹک میزائل کا ٹکڑا وسطی اسرائیل کی ایک ہائی وے پر ایک کار سے ٹکرایا، جس کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔
ایم ڈی اے کا کہنا ہے کہ زخمی شخص ہوش میں ہے۔
آئندہ چند منٹوں میں اسرائیل میں سائرن بجنے کی توقع ہے، کیونکہ فضائی دفاعی نظام ان خطرات کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان علاقوں میں جہاں سائرن بجیں، شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر بم شیلٹرز (پناہ گاہوں) میں چلے جائیں اور مزید ہدایات تک وہیں رہیں۔
یمنی حوثیوں کا بھی اسرائیل پر حملے جاری رکھنے کا اعلان
یمن میں ایران کے اتحادی انصاراللہ (حوثی باغیوں) کے ایک اعلیٰ رہنما نے کہا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھیں گے، جب تک اسرائیلی جارحیت بند نہیں ہوتی اور محاصرہ ختم نہیں کیا جاتا۔
حوثی حمایت یافتہ صدر مہدی المشاط نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ کی حمایت میں ہماری کارروائیاں قربانیوں کے باوجود بند نہیں ہوں گی۔
حوثی ایران کے خودساختہ ’محورِ مزاحمت‘ کا آخری گروپ ہیں، جو باقاعدگی سے اسرائیل پر حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے غزہ میں دوبارہ شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے اسرائیل پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل داغے ہیں، جن سے ہوائی حملے کے سائرن بجے، لیکن عام طور پر کم جانی نقصان ہوا، انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کے پانیوں میں بحری جہازوں پر بھی حملے کیے ہیں۔







































