شہیداحسان علی چاچڑ کے لواحقین کے ساتھ ناانصافی ناقابل برداشت ہے ریلوے پریم یونین
پاکستان ریلوے پریم یونین سی بی اے کے مرکزی صدر شیخ محمد انور نے اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سکھر ڈویژن کے گھوٹکی سیکشن میں گینگ نمبر 67 کے محنتی گینگ مین احسان علی چاچڑ کی دورانِ ڈیوٹی شہادت ریلوے انتظامیہ کی غفلت اور غیر ذمہ دارانہ رویے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
مرکزی صدر کا مزید کہنا تھا کہ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ ریلوے جیسا بڑا قومی ادارہ اپنے ملازمین کی جانوں کے تحفظ میں مکمل ناکام ثابت ہو رہا ہے۔ غریب محنت کش ہر روز جان ہتھیلی پر رکھ کر ریلوے کے نظام کو رواں دواں رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن حادثات کی صورت میں جب تک توجہ نہ دلائی جائے تب تک نہ تو کوئی مالی تعاون کیا جاتا ہے نہ ہی متاثرہ خاندانوں کی داد رسی کی جاتی یے
انہوں نے کہا کہ ریلوے کے ملازمین کی تنخواہوں سے ہر ماہ %/ 5 کٹوتیاں کی جاتی ہیں۔ صرف کفن دفن کے نام پر اوسطاً سات سو روپے فی ملازم ماہانہ وصول جاتے ہیں، جس سے ماہانہ کروڑوں روپے جمع ہوتے ہیں، لیکن اس کے باوجود شہید ملازمین کے اہلِ خانہ کو معمولی امداد بھی فراہم نہیں کی جاتی۔
شیخ انور کا مزید کہنا ھے کہ سکھر کلب کی لاکھوں روپے کی سالانہ آمدن اس میں سے شہید ہونے والے غریب ملازم کہ لواحقین کو 20 لاکھ روپے ادا کیے جاہیں۔
ریلوے میں بیشتر ملازمین کنٹریکٹ پر کام کر رہے ہیں، جو گزشتہ کئی برسوں سے مستقل ہونے کے منتظر ہیں
ریلوے پریم یونین نے وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی، سی ای او ریلوے اور حکومتِ وقت سے مطالبہ کیا کہ شہید احسان علی چاچڑ کے اہلِ خانہ کو فوری مالی امداد فراہم کی جائے۔
ریلوے میں کام کرنے والے تمام کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا جائے۔ حادثات کی روک تھام اور ملازمین کی جان کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔انسانی جان کا کوئی نعم البدل تو نہیں لیکن متاثرہ خاندان کے مستقبل کو سنوارنا حکومت اور ادارے کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری ہے







































