۔جیسے کہ آپ کے علم میں ہے کہ حکومت نے آئی ۔ایم۔ایف کے ایمائ پر ملک کے تمام پبلک سیکٹر کے اداروں کی نجکاری کا فیصلہ کیا ہے برائے فروخت اداروں کی فہرست میں پاکستان ریلوے بھی شامل ہے ۔ ریلوے ملازمین پہلے سے ہی دھڑا دھڑا آسامیوں کے خاتمے ،تنخواہوں کی بے یقین ادائیگی ، پنشن اور گریجوٹی کی سالہا سال تک عدم ادائیگی سے فکر مند اور نفسانفسی کا شکا رہیں ۔ انہیں پنشن اصلاحات کے نام سے ریٹائیر منٹ کی جمع پونجی اور بڑھاپے کی امید یہ بھی 45%فی صد کٹ لگا کے ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اس حکومت نے ملک کے محنت کشوں کی زندگیاں عذاب بنا کے رکھ دی ہیں ۔ مسائل کے اعتبار سے پاکستان ریلوے افسر شاہی کا بے گار کیمپ نظرآنے لگا ہے۔
ان ناروا حالات سے نبرد آزماہونے کےلئے ریلوے ملازمین کی تمام رجسٹرڈ نمائند ہ یو نینز جن میں پاکستان ریلوے ایمپلائز پریم یونین (سی بی اے)اوپن لائن ، ریلوے ورکرز یونین (سی بی اے) ورکشاپس اسٹیبلیشمنٹ ریلوے انقلابی یونین ، ریلوے ورکرز یونین اوپن لائن، ریلوے لیبر یونین ، ریلوے سمپارس یونین شامل ہیں۔ ان سب یونینز کو ریل مزدور اتحاد کے نام سے مشترکہ جدوجہد کا فیصلہ کیا ہے۔ اس وقت میرے ساتھ متحرم میاں خالد محمود صاحب، متحرم سخی خان صاحب ، رانا معصوم علی ، ریلوے ورکرز یونین سی۔بی۔اے ورکشاپس ،محمد سرفراز خان صاحب سلامت خان صاحب ریلوے لیبر یونین ، چوہدری عنائت علی گجر صاحب ، علی مردان خان صاحب اکبر کھوکھرصاحب ریلوے انقلابی یونین ظفر ملک صاحب ورکرز یونین ضیغم عباس ریلوے سمپارس اوپن یونین ، ضیا ئ الدین انصاری اور عبدالقیوم صاحب پریم یونین سی بی اے موجود ہیں۔ مجھے (شیخ محمد انور )کو ریل مزدور اتحاد اوپن لائن کے کنونیر کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جبکہ میاں محمد خالد محمود صاحب مرکزی صدر ورکرز یونین ورکشاپس کو ریلوے مزدور اتحاد ورکشاپس ایسٹیبلشمنٹ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
اس اتحاد کا بنیادی مقصد پاکستان ریلوے کے تمام محنت کشوں کو ایک پلیٹ فارم پہ منظم اور متحد کر کے پاکستان ریلوے کی نجکاری کے خاتمہ کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ حسب ذیل مشترکہ مسائل کے حل کےلئے بھ ریل مزدور اتحاد کی جدوجہد کا ایجنڈ ا حسب ذیل ہو گا۔
۱۔ ریلوے کی مجوزہ نجکاری کا خاتمہ
۲۔ نئی پنشن اصلاحات کا خاتمہ
۳۔ ریلوے ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائیر ڈ ملازمین کی پنشن کی بروقت ادائیگی ۔
۴۔ ورکشاپس کے ملازمین کو Dispenseition الائونس کی ادائیگی ۔
۵۔ ریلوے کے ٹیکنیکل شعبہ جات کے تمام ملازمین کو ٹیکنیکل الائونس کی یکساں ادائیگی ۔
۶۔ پی ۔ایم پیکج کے تحت یتیم بچے ، بچیوں کی بھرتی پہ پابندی اور انویلڈ ملازمین کے بچوں کی بھرتی پر پابندیوں کے فیصلہ کو واپس لیا جائے ۔
۷۔ ڈائون سائزنگ اور خالی آسامیوں کے خاتمہ کی پالیسی کا خاتمہ ۔
۸۔ سالہا سال سے ٹی۔اے کی عدم ادائیگی اور ورکشاپس میں اوور ٹائم کی بندش کا خاتمہ۔
۹۔ ریٹائیرڈ ملازمین ، بیوائوں کے واجبات کی بلا تاخیر کی ادائیگی ۔
۰۱۔ ریلوے کی مستقل آسامیوں پہ ریگولر بھرتیاں کی جائیں اور کنٹریکٹ بھرتیوں کی پالیسی نامنظور ہے۔
۱۱۔ ٹی۔ایل۔ اے آسامیوں کا خاتمہ نامنظور نیز ٹی۔ایل۔اے کی منظوری کی سابقہ پالیسی بحال کی جائے۔
ان ناروا حالات کے باوجود ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم مثبت رویہ اپناتے ہوئے بہترین حکمت عملی کے ساتھ حکومت کو باور کروائےں گے کہ جابرانہ یکطرفہ اور غیر پیشہ ورانہ مزدور دشمن اقدامات نہ ہی ملازمین اور نہ ہی ملک اور نہ ہی صنعتی امن کے فائدے میں ہیں ۔باہمی افہام و تفہیم اور خلوص نیت ملازمین کی بھلائی ریلوے کی ترقی اور ملک کی خیر خواہی ہمارا اولین فریضہ ہے۔ حکومت کو نان ٹیکنیکل اور ریلوے کی سمجھ بوجھ نہ رکھنے والے مشیروں کی بجائے محکمے سے وابستہ وسیع تجربہ رکھنے والے ریلوے کے مزدوروں کے نمائندوں کی مشاروت سے ریلوے کی پالیسیاں بنانی چاہیں۔ پاکستان ریلوے ملک کا سب سے بڑا رفاحی ، فلاحی اور ملک کے دفاع میں اہم رول ادا کرنے والا ادارہ ہے ۔ اس ادارے سے 55ہزار ملازمین اور ان کے خاندانوں کی روزی روٹی وابستہ ہے۔ کیا ملک کی معیشت ریلوے کے محنت کشوں کی وجہ سے تباہ ہوئی ہے کیا ریلوے کے خسارے کی وجہ یہ مزدور ہیں ۔ پوری دنیا میں پبلک سیکٹر کے ادارے عوام کی فلاح وبہبود اور سہولت کےلئے بنائے جاتے ہیں۔ پاکستان ریلوے بھی ملک کے عوام کی سستی سواری ہے جبکہ صحافیوں ، فوجیوں ، طلبائ اور بزرگ شہریوں کو رعائتی اور فری سفر کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ اگر پاکستان ریلوے کو بھی کمرشل بنیادوں پہ چلایا جائے تو پنشن اور عوامی خدمت (کرایوں میں رعایت ) ریاست اپنے ذمہ لے لے تو ریلوے کا آپریشنل خسارہ نہیں ہوگا۔ حکومت ریلوے چلانے کےلئے جو سالانہ بجٹ مہیا کرتی ہے اس میں 37فیصد پنشن 32فیصد تنخواہوں 20فیصد فیول اور چھ فیصد یوئٹئلزبلو ں اور مرمت پہ خرچ ہوجاتے ہیں اور باقی صرف 5فیصد بچتا ہے ۔ کیا 5فیصد سے ریلوے کو ترقی یافتہ ریلوے بنایا جا سکتا ہے۔ ایسی ریلوے جس کا 90فیصد ٹریک اوورایج (Overage)ہے جس کے 95فیصد پُل 100سال پُرانے ہیں جسکا سگنلیلنگ سسٹم فرسودہ ہے جس کا ٹیلی کمیونیکشن سسٹم ٹھپ ہوگیا ہے ۔ جس کے اسٹیشنوں کی عمارتیں اور ملازمین کی رہائش گاہیں کھنڈرات کا منظر پیش کرتے ہیں ٹرین سیفٹی کےلئے فنڈز درکا ر ہیںمگر ہر حکومت کی ترجیح سٹرکیں اور موٹرویز بنانا ہے مگرصرف 4ملین ڈالر فی کلومیٹر کی لاگت سے 1726کلومیٹر ریل سسٹم کو اپ گریڈ کرنے سے گریزاں ہے۔ اگر پاکستان ریلوے کی موجودہ شکل میں نجکاری کر دی گئی تو اس کے نتائیج انتہائی بھیانک ہو سکتے ہیںکوئی بھی سرمایہ کار اتنے بڑے فرسودہ نیٹ ورک پر سرمایہ کاری نہیں کرئے گا ۔ اگر پالیسی سازوں نے جلد بازی میں کھٹارا ریلوے کسی کے گلے ڈالنے کی کوشش کی تو ٹرینوں کے خوفناک حادثات سے قیمتی جانوں کا ضیا ع ہو گا۔
آپ سب جانتے ہیں کہ آئے روز ٹرینیں پٹریوں سے اتر رہی ہیںحادثات ہورہے ہیں مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ریلوے جیسے پیچیدہ اور منفرد ٹیکنیکل ادارے کی نجکاری کے فیصلے کرنے والے پالیسی ساز بیوروکریٹ ریلوے نظام کو سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہیں۔ یہ
ایسے ہی ہے جیسے ہوائی جہاز کو اڑانے کےلئے ٹانگہ ڈرائیور کو ذمہ داری سونپ دی جائے تو پھر ہوائی جہاز کا جو حشر ہوگا وہی حشر پاکستان ریلوے کا ہوگا۔پاکستان ریلوے ملکی اداروں میں ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتا ہے بدقسمتی سے ناقص منصوبہ بندی ، سیاسی مداخلت ، ناقص فیصلہ سازی کرپشن اور وسائل کی بے پنا ہ کمی کی بنائ پہ پاکستان ریلوے کا انفراسٹرکچر تباہ وبرباد ہوگیاہے اور ادارہ مسلسل خسارے کا شکارہے۔ اس وقت ریلوے شدید افرادی قوت میں کمی کا شکار ہے ۔ مگر بھرتیوں پہ پابندی کی بنائ پہ ٹرین آپریشن بُری طرح متاثر ہورہا ہے ۔ غیر ضروری پراجیکٹوں اور ٹھیکیداروں کے ذریعے لوٹ کھسوٹ کا سلسلہ حنوزجاری ہے ۔ ایم پی ون ۔ٹو میں لاڈلے بھرتی ہورہے ہیں ۔جنہیں آٹھ آٹھ دس دس لاکھ تنخواہیںادا کی جارہی ہیں۔ نجکاری کی آڑ میں ریلوے کی کھربوں مالیت کی زمینین ٹھکانے لگانے کی منصوبہ بندی ہورہی ایک طرف غریب مزدوروں کو ماہانہ تنخواہوں کی غیر یقینی ادائیگی ہے ۔ پنشن اور گریجوٹی کئی کئی سال سے واجب الاادا ہے غریب طبقہ روز بروز کمر توڑ مہنگائی مزدور دشمن فیصلوں سے پستہ چلا جارہاہے ۔ ظالمانہ نظام محنت کشوں سے روزی روٹی اور سروں کی چھت تک چھیننا چاہ رہا ہے پنشن اور گریجوٹی میں 45% تک کٹ لگادیا ہے مگر دوسری طرف وزارائ اور سینٹروں کی تنخواہوں میں دو سو فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔کیا ملک کے غریب مزدور ہی ملکی معیشت پہ بوجھ ہیں؟۔ اس قبل بھی 1989-1990کے دوران معیشت کی تباہی جواد بنا کر ملک کے تقریبا 200اداروں کی نجکاری کی گئی تھی جن میں بڑے بڑے بینک اور سمنیٹ فیکٹریاں تک نیلام کردی گئی تھیں کیا اس نجکاری کے نیتیجہ میں ملکی معیشت میں کوئی بہتری آئی تھی جواب بچے کھچے ادارے نیلام کر کے ملکی معیشت بہتر ہو جائے گی ۔
ریل کے ناخدائوں کوشاہد یہ غلط فہمی ہوگئی ہے کہ ریل کا مزدور لا واث ہے وقت کے ناخدائوں اور ارباب اختیار کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ ان ناکاروں انجنوں کھٹاراکوچوں سو سالہا قدیم ٹریک اور فرسودہ ٹریک اور سگنیلنگ سسٹم سے اگر گاڑی چل رہی ہے تو اس کا کریڈٹ صرف ریلوے کے ان محنت کشوں کو جاتا ہے اگر ریل کے محنت کشوں نے ٹرین چلانے کے قوانین پہ سو فیصد عمل درآمد شروع کر دیا یعنی صرف ورک ٹورول پہ ٹرین چلانے کا فیصلہ کر لیا تو ریل کا پہیہ رواں دواں رکھنا مشکل ہو جائے گا ۔ ریل مزدور اتحاد نے پاکستان ریلوے میں تاریخ ساز جدوجہد کا آغاز کردیا ہے ۔ خیبر تا کراچی اور کوئٹہ تک چاروں صوبوں میںریلوے کے محنت کش متحد اور منظم ہیں ہم حقوق کی جنگ انشائ اللہ آخری فتح تک جاری رکھیں گے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عوام کی سستی سواری ریلوے کی نجکاری کا غیر دانشمندانہ فیصلہ واپس لےں ریلوے کے محنت کشوں کے مسائل حل کیے جائیں اور ریلوے کی اپ گریڈیشن پہ توجہ دی جائے ۔ اگر ریل مزدور اتحاد کے مطالبات پہ ہمدردانہ غور نہ کیا گیا مزدور دشمن کاروائیاں جاری رہیں تو پھر ریل کے پہیے کو رواں دواں رکھنا ممکن نہیں رہے گا ۔ ریل کے محنت کش حقوق کے حصول کےلئے بے روز گار ہوکر بھوکامرنے کی بجائے لڑمرنے کو ترجیع دیں گے








































