اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، انڈیکس ایک لاکھ 21 ہزار کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بدھ کو بجٹ کے اعلان سے قبل کاروبار کے دوران شیئرز میں 1358 پوائنٹس کا اضافہ دیکھنے میں آیا جس کے باعث مارکیٹ ایک 21 ہزار 808 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
بدھ کو دوپہر 2 بجکر 30 منٹ پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 1358.10 پوائنٹس یا 1.13 فیصد اضافے کے بعد ایک لاکھ 21 ہزار 808 پوائنٹس پر پہنچ گیا ہے، جو کہ گزشتہ روز ایک لاکھ 20 ہزار 450 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عارف حبیب لمیٹڈ کی ریسرچ ہیڈ ثنا توفیق کے مطابق، اس تیزی کی وجہ پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے درمیان ایک نئے مالیاتی پیکیج کی منظوری کی خبر ہے۔
فلپائن میں قائم بینک کے بیان کے مطابق اے ڈی بی نے پاکستان میں مالیاتی استحکام کو مضبوط کرنے اور عوامی مالیاتی نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے 800 ملین ڈالر کے پروگرام کی منظوری دی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ’بہتر وسائل کی وصولی اور استعمال میں اصلاحات کے پروگرام‘ کے ذیلی پروگرام 2 میں 300 ملین ڈالر کا پالیسی پر مبنی قرض اور اے ڈی بی کی جانب سے پہلی بار 500 ملین ڈالر تک کی پالیسی پر مبنی گارنٹی شامل ہے، جس سے کمرشل بینکوں سے ایک ارب ڈالر تک کی فنانسنگ متوقع ہے۔
ثنا توفیق نے مزید کہا کہ اسٹاک مارکیٹ میں رواں ہفتے کے آغاز میں تصحیح کے بعد اسٹاک ویلیوایشنز ’پرکشش سطح‘ پر پہنچ گئی تھیں، جس نے سرمایہ کاروں کو متوجہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ آخر میں ادارہ جاتی خریداری میں بھی اضافہ ہوا ہے جس سے لیکویڈیٹی میں بہتری آئی ہے۔
چیس سیکیورٹیز کے ریسرچ ڈائریکٹر یوسف ایم فاروق کے مطابق مارکیٹ نے تاریخی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے کیونکہ سرمایہ کار بجٹ سے متعلق منفی خبروں کو نظرانداز کر رہے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ توقعات بڑھ رہی ہیں کہ معاشی استحکام برقرار رہے گا اور سود کی شرحیں بتدریج کم ہوں گی، جس سے اسٹاک مارکیٹ کے پرائس ٹو ارننگ (پی ای) ریٹ بڑھنے کی راہ ہموار ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ مارکیٹ بیل رن کے دوسرے مرحلے (یعنی ایکیوملیشن کے مرحلے سے عوامی شرکت یا رفتار) میں داخل ہو رہی ہے، جس کی خصوصیات میں عوام کی بڑھتی ہوئی شمولیت، اسٹاک مارکیٹ کی حجم میں اضافہ، پی ای ملٹی پل میں بتدریج توسیع، اور معاشی بحالی کی واضح علامات شامل ہیں۔
یوسف فاروق کے مطابق ٹیکسوں میں کمی جیسے اقدامات جو کارپوریٹ منافع میں اضافہ کرتے ہیں، اور آئی ایم ایف کے رہنما اصولوں پر عملدرآمد، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط کریں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بڑے پیمانے پر ڈیجیٹائزیشن کی طرف اٹھائے گئے اقدامات بھی اسٹاک مارکیٹ کے رجحان کو مثبت سمت میں لے جائیں گے







































