آئی ایم ایف کا تکنیکی مشن ایک ارب ڈالر کی ’کلائمیٹ فنانسنگ‘ پر آج بات چیت کرے گا

آئی ایم ایف کا تکنیکی مشن ایک ارب ڈالر کی ’کلائمیٹ فنانسنگ‘ پر آج بات چیت کرے گا

2022 کے سیلاب کے بعد تعمیر نو کی ضروریات کا تخمینہ مالی سال 23 کے بجٹ قومی ترقیاتی اخراجات سے 1.6 گنا زائد لگایا گیا
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا تکنیکی مشن پاکستان کی جانب سے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ایک ارب ڈالر سے زائد کی اضافی فنانسنگ کی درخواست پر آج اسلام آباد میں بات چیت کا آغاز کرے گا۔
اس بات چیت کے بعد آئندہ ہفتے کے اوائل میں پالیسی کا جائزہ لیا جائے گا، جس میں جاری 7 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت حکام کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔

آئی ایم ایف کی ٹیکنیکل ٹیم زیادہ تر اہم وزارتوں بشمول منصوبہ بندی، خزانہ، موسمیاتی تبدیلی، پیٹرولیم اور آبی وسائل کے ساتھ ساتھ فیڈرل بورڈ آف ریونیو، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسیوں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ رابطے میں رہے گی۔

اسلام آباد میں آئی ایم ایف کے ریزیڈنٹ نمائندے ماہیر بنیسی نے مزید تفصیلات بتائے بغیر تصدیق کی کہ اب سے تین ہفتوں تک ملاقاتیں جاری رہیں گی۔

آئی ایم ایف کے عملے کی ایک ٹیم مارچ کے وسط میں پاکستان کا دورہ کرے گی، جہاں وہ پاکستان کے توسیعی فنڈ سہولت کی معاونت سے چلنے والے پروگرام کے تحت پہلے جائزے اور حکام کی جانب سے لچک اور پائیداری سہولت (آر ایس ایف) انتظامات کے تحت امداد کی درخواست پر تبادلہ خیال کرے گی۔

اس سلسلے میں ایک ٹیکنیکل رواں ہفتے پاکستان آئے گی جو آر ایس ایف کے ممکنہ انتظامات سے متعلق تکنیکی امور پر تبادلہ خیال کرے گی۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ متعلقہ حکام خاص طور پر منصوبہ بندی اور خزانہ کی وزارتوں نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے پالیسی مشورے کے مطابق آنے والے بجٹ کے لیے ماحولیات سے متعلق پبلک انویسٹمنٹ مینجمنٹ اسیسمنٹ (سی-پیما) کے لیے دستاویزات تیار کی ہیں۔

39 ماہ پر محیط ای ایف ایف کے پہلے 2 سالہ جائزے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اب تک صرف ایک اسٹرکچرل بینچ مارک مکمل کیا ہے، تاہم بدلتے ہوئے ملکی اور بین الاقوامی میکرو اکنامک حالات کی وجہ سے کچھ اہداف حاصل نہیں کیے جاسکے۔

واحد بقایا بینچ مارک دسمبر کے آخر تک ساورن ویلتھ فنڈ (ایس ڈبلیو ایف) میں ضروری ترامیم سے متعلق ہے، حالاں کہ گورننس اسٹرکچر اور مالی تحفظ کے بارے میں ان اداروں کی دیگر ذیلی شرائط پہلے ہی پوری کی جا چکی ہیں۔

وزارت منصوبہ بندی نے وفاقی وزارتوں اور صوبوں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو مستقبل کے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے منصوبوں کے انتخاب کے معیار اور طریقہ کار سے بھی آگاہ کیا ہے۔

آئندہ بجٹ کے آغاز میں پی ایس ڈی پی کے منصوبوں کے انتخاب کے لیے غور کیے جانے والے عوامل میں اسٹریٹجک اور بنیادی جاری منصوبے، 80 فیصد سے زائد اخراجات کے ساتھ جاری منصوبے اور حقیقت پسندانہ تکمیل کے تخمینے شامل ہوں گے۔

آئندہ بجٹ میں پی ایس ڈی پی منصوبوں کے انتخاب کے لیے غور کیے جانے والے عوامل میں اسٹریٹجک اور بنیادی جاری منصوبے، حقیقت پسندانہ تکمیل کے تخمینے کے ساتھ 80 فیصد سے زائد اخراجات کے ساتھ جاری منصوبے، غیر معمولی اور اعلیٰ اسکورنگ انفرا اسٹرکچر منصوبے، ورکنگ پارٹی کی سطح پر پہلے سے جانچ پڑتال کے بعد منظور شدہ منصوبے، مناسب رقم مختص کرنے والے غیر ملکی فنڈز والے منصوبے اور 20 کم ترقی یافتہ اضلاع میں صوبائی منصوبے شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ماحولیات سے متعلق اور ماحولیاتی لچک والے منصوبے بھی پی ایس ڈی پی کا حصہ ہوں گے۔

آر ایس ایف کے تحت فنڈنگ ان ممالک کو فراہم کی جاتی ہے، جو موافقت کے ذریعے ماحولیات کی تباہ کاریوں کے خلاف لچک پیدا کرنے کے لیے اعلیٰ معیار کی اصلاحات کا عہد کرتے ہیں، اور یہ رقم 30 سال کی مدت کے لیے ہوتی ہے، جس میں 10 سال کی رعایتی مدت بھی شامل ہے، اور ای ایف ایف شرائط سے کم شرح سود پر یہ رقم دی جاتی ہے۔

گزشتہ سال اکتوبر میں پاکستان نے باضابطہ طور پر آئی ایم ایف سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنے 7 ارب ڈالر کے ای ایف ایف کو مزید ایک ارب 20 کروڑ ڈالر بڑھائے۔

ماحولیاتی لچک کی فنڈنگ
آئی ایم ایف پہلے ہی پاکستان کو مشورہ دے چکا ہے کہ وہ ہر سال جی ڈی پی کا ایک فیصد (موجودہ سال کے تخمینے کے مطابق ایک کھرب 24 ارب روپے سے زائد) موسمیاتی لچک اور موافقت کی اصلاحات میں سرمایہ کاری کرے، تاکہ شدید موسمی حالات، خاص طور پر سیلاب کے بار بار اور بڑھتے ہوئے خطرے کا مقابلہ کرنے، معاشی ترقی کو برقرار رکھنے اور عدم مساوات کو ختم کرنے کے لیے تیاری کی جاسکے۔

آئی ایم ایف کا ماننا ہے کہ ماحولیات سے مطابقت رکھنے والے بنیادی ڈھانچے میں اس طرح کی سرمایہ کاری قدرتی آفات کے خطرات کے منفی نمو کے اثرات کو ایک تہائی تک کم کر سکتی ہے، جب کہ تیز اور زیادہ مکمل بحالی کو یقینی بنا سکتی ہے۔

آئی ایم ایف نے نوٹ کیا کہ موافقت کے بنیادی ڈھانچے میں جی ڈی پی کا تقریباً ایک فیصد سرمایہ کاری پاکستان کی ماحولیاتی لچک میں اضافہ کرے گی، یہ سرمایہ کاری قدرتی آفات کے اثرات کو تقریباً ایک تہائی تک کم کرے گی، اور پاکستان کو اس کی سابقہ جی ڈی پی کی سطح پر زیادہ تیزی سے واپس لائے گی۔

سی پیما ایکشن پلان کے مطابق عوامی سرمایہ کاری کی کارکردگی میں اضافے سے اس طرح کی لچک میں مزید بہتری آئے گی۔

حکومت کی جانب سے سی پیما کو اپنایا گیا ہے، جس کی بنیاد پر پاکستان پہلے ہی آئی ایم ایف سے مزید فنانسنگ کی خواہش کا اظہار کر چکا ہے، اور بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹ کے آپشنز پر غور کر رہا ہے۔

آئی ایم ایف نے اندازہ لگایا ہے کہ ماحولیاتی لچک بڑھانے کے لیے درکار اضافی سرمایہ کاری قرضوں کی سطح کو معتدل طور پر بلند کرنے کا باعث بنے گی، ایک ایسی صورت حال جس میں مالیاتی عوامل – کھپت اور انکم ٹیکس نے اس طرح کے خطرے کا جواب دیا ہے، بحالی کے بعد عوامی قرضوں کو نیچے کی طرف لے جائے گی، حالاں کہ کسی بڑی قدرتی آفت کے پیش نظر اس طرح کی پالیسی قابل عمل یا مطلوبہ نہیں ہوسکتی۔

آئی ایم ایف کا ماننا ہے کہ مالیاتی استحکام اور مالیاتی ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر مزید پیش رفت، مالیاتی گنجائش کو برقرار رکھنے کے لیے اہم ہے، جو اس طرح کے جھٹکے کو برداشت کرنے کے لیے ضروری ہوگی۔

ڈھانچہ جاتی کمزوریاں

آئی ایم ایف کے مطابق، پاکستان کا معیار زندگی کئی دہائیوں سے گر رہا ہے، اور 1980 کی دہائی کے اوائل میں اسی طرح کے آغاز کے باوجود، پاکستانیوں کی آمدنی جمود کا شکار تھی، اور علاقائی ہم منصبوں سے پیچھے رہ گئی تھی، اس کے ساتھ ساتھ غربت کی شرح بلند رہی اور سماجی ترقی کے اشاریے بھی اپنے ہم عصروں سے پیچھے رہ گئے۔

اس کے ساتھ کمزور انسانی سرمائے کے نتائج، کم مالی صلاحیت، پسندیدہ صنعتوں کے لیے تحفظ، اور بڑے پیمانے پر ریاستی اثر و رسوخ تھا، انسانی سرمائے اور کارکردگی سے حاصل ہونے والے فوائد سے ترقی میں حصہ کم رہا، صحت اور تعلیم کے اشاریے، اگرچہ حالیہ برسوں میں بہتر ہوئے ہیں، اب بھی علاقائی اور کم متوسط آمدنی والے اپنے جیسے ممالک سے پیچھے ہیں۔

جی ڈی پی کے حصے کے طور پر انسانی سرمائے کے اخراجات میں مسلسل کمی آئی ہے، ان ساختی کمزوریوں کے نتائج بڑھتی ہوئی ماحولیاتی کمزوری کی وجہ سے بڑھ گئے ہیں۔

پاکستان کو عالمی اوسط سے کہیں زیادہ درجہ حرارت کا سامنا ہے، اس سے موسمیاتی تغیرات میں اضافہ ہوگا، اور انتہائی واقعات بڑھیں گے، جن میں پانی کی دستیابی میں کمی، زیادہ شدید اور طویل خشک سالی، گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے ساتھ زیادہ متغیر اور شدید مون سون، ساحلی آبادیوں اور بنیادی ڈھانچے پر قبضہ کرنے والے سمندر کی سطح میں اضافہ شامل ہے۔

اس طرح کی تبدیلی کے منفی میکرو اکنامک نتائج پہلے ہی محسوس کیے جا چکے ہیں، ماحولیات اور موسم سے متعلق آفات، جو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جس کے نتیجے میں 1992 سے 2021 کے دوران 29 ارب 30 کروڑ ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، جو 2020 کے جی ڈی پی کے 11.1 فیصد کے برابر ہے، جس نے ترقیاتی فوائد کو سست کردیا۔

حال ہی میں، 2022 کے سیلاب سے ایک ہزار 700 افراد ہلاک ہوئے، 80 لاکھ لوگ بے گھر ہوئے، غربت کی شرح میں 4 فیصد پوائنٹس تک اضافہ ہوا، اور معاشی نقصانات کو مالی سال 22 کے جی ڈی پی کے 4.8 فیصد کے مساوی بڑھادیا۔

2022 کے سیلاب کے بعد تعمیر نو کی ضروریات کا تخمینہ مالی سال 23 کے بجٹ قومی ترقیاتی اخراجات سے 1.6 گنا زائد لگایا گیا ہے، پاکستان کی کمزور شہری منصوبہ بندی، بنیادی ڈھانچے اور آبی وسائل کے انتظام کی وجہ سے اس تباہی میں مزید اضافہ ہوا

  • Related Posts

    ایران میں تقریباً 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا: امریکی فوج

    ایران میں تقریباً 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا: امریکی فوج امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ آٹھ جولائی کو ایران کے خلاف کارروائی…

    ایران کے پاسداران انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ

    ایران کے پاسداران انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ ایران کے پاسداران انقلاب نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    یہ بھی پڑھئے

    ایران میں تقریباً 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا: امریکی فوج

    ایران کے پاسداران انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ

    ایران کے پاسداران انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ

    ایران نے کچھ دیر پہلے رابطہ کیا، وہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ

    ایران نے کچھ دیر پہلے رابطہ کیا، وہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ

    آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوشش کی گئی تو فوجی کارروائی کریں گے، امریکی نائب صدر

    آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوشش کی گئی تو فوجی کارروائی کریں گے، امریکی نائب صدر

    ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس بڑھتے ہی ٹیوٹا نے کرولا کراس HEV کی قیمت 13 لاکھ روپے بڑھا دی

    ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس بڑھتے ہی ٹیوٹا نے کرولا کراس HEV کی قیمت 13 لاکھ روپے بڑھا دی

    آیت اللہ علی خامنہ ای کو آج مشہد میں سپرد خاک کیا جائے گا

    آیت اللہ علی خامنہ ای کو آج مشہد میں سپرد خاک کیا جائے گا

    سوئی سدرن گیس کمپنی حکام نے خسارے کے باوجود خود کو اور سٹاف کو ایک ارب 60 کروڑ کا بونس دیدیا : سینئر صحافی کا دعویٰ

    سوئی سدرن گیس کمپنی حکام نے خسارے کے باوجود خود کو اور سٹاف کو ایک ارب 60 کروڑ کا بونس دیدیا : سینئر صحافی کا دعویٰ

    وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے فوڈ سیفٹی سلمیٰ بٹ نے لاہور میں گودام پر چھاپہ مار کر امپورٹ شدہ ایکسپائرڈ سامان قبضے لےلیا اور گودام کو سیل کردیا

    وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے فوڈ سیفٹی سلمیٰ بٹ نے لاہور میں گودام پر چھاپہ مار کر امپورٹ شدہ ایکسپائرڈ سامان قبضے لےلیا اور گودام کو سیل کردیا

    سعودی حکام نے حج قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرتے ہوئے 6 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

    خیبرپختونخوا: ٹانک میں پولیس کی بکتر بند گاڑی پر دھماکا، 6 اہلکار شہید

    خیبرپختونخوا: ٹانک میں پولیس کی بکتر بند گاڑی پر دھماکا، 6 اہلکار شہید

    متحدہ عرب امارات اور پاکستان نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) جانے والے پاکستانی شہریوں کے لیے پری امیگریشن کلیئرنس سے متعلق باضابطہ معاہدہ کرنے پر اتفاق کیا ہے

    متحدہ عرب امارات اور پاکستان نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) جانے والے پاکستانی شہریوں کے لیے پری امیگریشن کلیئرنس سے متعلق باضابطہ معاہدہ کرنے پر اتفاق کیا ہے

    پاکستانی مسافروں کیلئے بڑی خبر، یو اے ای پہنچنے پر طویل امیگریشن کارروائی سے چھٹکارا

    پاکستانی مسافروں کیلئے بڑی خبر، یو اے ای پہنچنے پر طویل امیگریشن کارروائی سے چھٹکارا

    ’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید

    ’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید

    امریکا نے پاکستان کے ایف 16 طیاروں کے لیے 68 کروڑ ڈالر کے اپ گریڈ پیکج کی منظوری دے دی

    امریکا نے پاکستان کے ایف 16 طیاروں کے لیے 68 کروڑ ڈالر کے اپ گریڈ پیکج کی منظوری دے دی

    ’قانون میرے فائدے کیلئے نہیں بنایا گیا تھا‘ مریم نواز کا پراپرٹی ایکٹ کی معطلی پر اظہار تشویش

    ’قانون میرے فائدے کیلئے نہیں بنایا گیا تھا‘ مریم نواز کا پراپرٹی ایکٹ کی معطلی پر اظہار تشویش

    انٹرنیشنل فنانس کاپوریشن کا پاکستان میں پہلی مقامی کرنسی سرمایہ کاری کا اعلان

    انٹرنیشنل فنانس کاپوریشن کا پاکستان میں پہلی مقامی کرنسی سرمایہ کاری کا اعلان

    اپوزیشن کو پہلے بھی دعوت دی، اب بھی مذاکرات کیلئے تیار ہیں، وزیراعظم

    اپوزیشن کو پہلے بھی دعوت دی، اب بھی مذاکرات کیلئے تیار ہیں، وزیراعظم

    خیبرپختونخوا: کرک میں پولیس وین پر دہشتگردوں کا حملہ، پانچ پولیس اہلکارشہید

    خیبرپختونخوا: کرک میں پولیس وین پر دہشتگردوں کا حملہ، پانچ پولیس اہلکارشہید

    عارف حبیب گروپ نے پی آئی اے کو 135 ارب روپے میں خرید لیا

    عارف حبیب گروپ نے پی آئی اے کو 135 ارب روپے میں خرید لیا

    ٹک ٹاک کا پاکستان میں چھوٹے کاروبار کیلئے سیلف سروس ایڈورٹائزنگ پلیٹ فارم متعارف

    ٹک ٹاک کا پاکستان میں چھوٹے کاروبار کیلئے سیلف سروس ایڈورٹائزنگ پلیٹ فارم متعارف

    پاکستانی کوہ پیما ثمینہ بیگ نے نئی تاریخی کامیابی حاصل کرلی

    پاکستانی کوہ پیما ثمینہ بیگ نے نئی تاریخی کامیابی حاصل کرلی

    شوگر انڈسٹری کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے پالیسی ڈرافٹ تیار

    شوگر انڈسٹری کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے پالیسی ڈرافٹ تیار

    چناب کے بہاؤ میں اچانک تبدیلی پر پاکستان کا اظہارِ تشویش، بھارت سے وضاحت طلب

    چناب کے بہاؤ میں اچانک تبدیلی پر پاکستان کا اظہارِ تشویش، بھارت سے وضاحت طلب

    ’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید

    ’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید

    بھارت میں مسلم خاتون کے حجاب کھینچنے کے واقعے کی شکایت درج

    بھارت میں مسلم خاتون کے حجاب کھینچنے کے واقعے کی شکایت درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا جسٹس جہانگیری کو عہدے سے ہٹانے کا حکم، ڈگری تقرری کے وقت ’غیر معتبر‘ قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا جسٹس جہانگیری کو عہدے سے ہٹانے کا حکم، ڈگری تقرری کے وقت ’غیر معتبر‘ قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بلدیاتی الیکشن اور سی ڈی اے کو تحلیل کرنے سے متعلق سنگل بینچ کا فیصلہ معطل

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بلدیاتی الیکشن اور سی ڈی اے کو تحلیل کرنے سے متعلق سنگل بینچ کا فیصلہ معطل

    چلاس میں شاہراہ قراقرم پر لینڈسلائیڈنگ، 6 گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں، 2 دریا میں جاگریں

    چلاس میں شاہراہ قراقرم پر لینڈسلائیڈنگ، 6 گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں، 2 دریا میں جاگریں

    شدت پسند گروہ افغانستان اور اس سے باہر کی دنیا کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں، وزیراعظم

    شدت پسند گروہ افغانستان اور اس سے باہر کی دنیا کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں، وزیراعظم

    اسلام آباد کچہری کے باہر خود کش بمبار کے حملے میں 12 افراد شہید، 22 زخمی

    اسلام آباد کچہری کے باہر خود کش بمبار کے حملے میں 12 افراد شہید، 22 زخمی

    پاک فوج نے تیسری انٹر سروسز کامبیٹ شوٹنگ چیمپئن شپ 2025 جیت لی

    پاک فوج نے تیسری انٹر سروسز کامبیٹ شوٹنگ چیمپئن شپ 2025 جیت لی

    مصنوعی ذہانت کے انقلاب کو توانائی کے بحران، عمارتوں کی جلد تکمیل کا مسئلہ درپیش

    مصنوعی ذہانت کے انقلاب کو توانائی کے بحران، عمارتوں کی جلد تکمیل کا مسئلہ درپیش

    نواز شریف کی حکومت بحال ہونے کی خوشی میں یونیورسٹی مٹھائی لے کر گیا تھا، نورالحسن

    نواز شریف کی حکومت بحال ہونے کی خوشی میں یونیورسٹی مٹھائی لے کر گیا تھا، نورالحسن

    اسلام آباد کچہری کے باہر پارکنگ میں کھڑی گاڑی میں دھماکا، 3 افراد زخمی

    اسلام آباد کچہری کے باہر پارکنگ میں کھڑی گاڑی میں دھماکا، 3 افراد زخمی

    شادی کے وقت کہا گیا تھا زیادہ عرصہ شادی نہیں چلے گی، یاسرہ رضوی

    شادی کے وقت کہا گیا تھا زیادہ عرصہ شادی نہیں چلے گی، یاسرہ رضوی

    ڈونلڈ ٹرمپ کا احمد الشراع سے تاریخی ملاقات کے بعد شام کی ہرممکن مدد کے عزم کا اظہار

    ڈونلڈ ٹرمپ کا احمد الشراع سے تاریخی ملاقات کے بعد شام کی ہرممکن مدد کے عزم کا اظہار

    ’بالاکوٹ حملے کے بعد قومی سلامتی کمیٹی نے جنرل باجوہ کے منصوبے کی حمایت کی تھی

    ’بالاکوٹ حملے کے بعد قومی سلامتی کمیٹی نے جنرل باجوہ کے منصوبے کی حمایت کی تھی

    امریکی سینیٹ سے حکومت کے شٹ ڈاؤن کو ختم کرنے کیلئے فنڈنگ بل منظور

    امریکی سینیٹ سے حکومت کے شٹ ڈاؤن کو ختم کرنے کیلئے فنڈنگ بل منظور

    عمران خان اور وزیراعظم کے استثنیٰ کی شق کے درمیان کوئی ’تعلق‘ نہیں، رانا ثنااللہ

    عمران خان اور وزیراعظم کے استثنیٰ کی شق کے درمیان کوئی ’تعلق‘ نہیں، رانا ثنااللہ

    بھاری جرمانوں پر عوامی ردعمل کے بعد حکومت سندھ کا ای چالان کی رقم میں کمی پر غور

    بھاری جرمانوں پر عوامی ردعمل کے بعد حکومت سندھ کا ای چالان کی رقم میں کمی پر غور

    کار دھماکے کی تحقیقات انسداد دہشتگردی قانون کے تحت کی جا رہی ہیں، دہلی پولیس

    کار دھماکے کی تحقیقات انسداد دہشتگردی قانون کے تحت کی جا رہی ہیں، دہلی پولیس