سندھ حکومت اپنا مقدمہ لڑے، چشمہ رائٹ بینک کینال سے باز رہے، بیرسٹر سیف
بیرسٹر سیف نے کہا کہ 1991 میں منظوری ملنے کے بعد 3 صوبوں میں نہریں نکالی گئیں، مگر پختونخوا کو محروم رکھا گیا
مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ سندھ حکومت اپنا مقدمہ وفاق اور پنجاب کے ساتھ لڑے، چشمہ رائٹ بینک کینال منصوبے سے باز رہے۔
مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سندھ اسمبلی میں مجوزہ نہروں کیخلاف پیش کی گئی قرارداد میں چشمہ رائٹ بینک کینال (لفٹ کم گریویٹی) منصوبے کو شامل کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، قرارداد سے چشمہ رائٹ بینک کینال کو فوری خذف کیا جائے۔
مشیر اطلاعات کے پی نے کہا کہ چشمہ رائٹ بینک (لفٹ کم گریویٹی۹ کینال پروجیکٹ کی منظوری 1991 میں دی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ 1991 میں چاروں صوبوں کے لیے نہریں نکالنے کی منظوری دی گئی تھی، ان نہروں کی فنڈنگ وفاق کے ذمے تھی۔
بیرسٹ محمد علی سیف نے کہا کہ 3 صوبوں میں نہریں نکالی گئیں، مگر خیبر پختونخوا کو محروم رکھا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اپنا مقدمہ وفاق اور پنجاب کے ساتھ لڑے، چشمہ رائٹ بنک کنال سے باز رہے۔
انہوں نے کہا کہ کے پی حکومت نے چشمہ رائٹ بینک کینال (لفٹ کم گریویٹی) منصوبے کے لیے 35 فیصد فنڈ فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی ہے، اس کے باوجود منصوبہ تاخیر کا شکار ہے







































