اسلام آباد، معروف صحافی ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ جہاں تک مولانا پہنچ چکے ہیں ان کے پاس احتجاج کرنے کے علاوہ کوئی آپشن ہی نہیں ہے۔لیکن حکومت کے پاس بڑی طاقت ہوتی ہے وہ ان کو اسلام آباد نہ آنے دیں۔سپیشل برانچ والے پھر رہے ہوں گے، پولیس والے کچھ گرفتاریاں کر لیں۔کچھ لوگ اس سے دلبرداشتہ ہو جائیں گے اور شرکاء کی تعداد بھی کم ہو جائے گی۔
تاہم ایسا ممکن نہیں کہ وہ احتجاج نہ کریں۔ان سے بات چیت کا وقت بھی گزر گیا ہے۔اگر پہلے بات چیت کی جاتی تو ممکن ہو سکتا تھا کہ مولانا دھرنا نہ دیتے۔ادھر یہ کہنا کہ یہ سب مودی کے کہنے پر ہو رہا ہے یہ بھی غلط ہے۔اپوزیشن کئے تین اہداف ہیں ایک یہ کہ عمران خان کو عہدے سے ہٹایا جائے،ایک یہ کہ نئے الیکشن کروائے جائیں اور ایک یہ انہی کی پارٹی میں سے کسی اور کو وزیراعظم بنایا جائے،اس حوالے سے سنجیدگی سے بحث بھی ہوئی اور شاہ محمود قریشی کا نام سامنے آیا۔










































