ڈیپ فیک کے دور میں انٹرنیٹ صارفین کو پہلے سے زیادہ محتاط رہنا ہوگا، ماہرین
سائبر سکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹولز کے ذریعے نہ صرف ٹیکسٹ، تصاویر بلکہ براہ راست ویڈیوز تیار کی جارہی ہیں جو پہلے سے زیادہ اسمارٹ طریقے سے ٹارگٹڈ فراڈ کو ممکن بنارہا ہے لہذا انٹرنیٹ صارفین کو اب زیادہ محتاط رہنا ہوگا۔
غیر ملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ سے بات کرتے ہوئے سائبر سیکیورٹی فرم ’ایف فائیو‘ کے ارنوو لیمیر کا کہنا تھا کہ حالیہ ہفتوں کے دوران فرانس میں ایک ہائی پروفائل ’رومانوی اسکینڈل‘ جس میں ایک خاتون نے لاس اینجلس میں لگی آگ سے متاثرہ افراد کے لیے 8 لاکھ 30 ہزار یورو سے زائد رقم کے لیے جعلی عطیات کی مہم چلائی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کاروباری اداروں سمیت نجی شخصیات بھی سائبر حملوں کا نشانہ بن رہی ہیں۔
انہوں سائبر حملے کا سب سے مشہور طریقہ جعل سازی ہے، یعنی کسی کو جھوٹی ای میلز سمیت دیگر پیغامات بھیجنا شامل ہیں جب کہ اکثر لوگ صارفین کو کسی لنک پر کلک کرنے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر کوئی پروگرام انسٹال کروانے کے علاوہ حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
امریکی ٹیلی کام آپریٹر ویریزون نے ’انڈسٹری اسٹیپل ڈیٹا بریچ انویسٹی گیشن رپورٹ 2024‘ میں بتایاکہ گزشتہ سال دنیا بھر میں تقریبا 10 ہزار ’ ڈیٹا بریچ’ میں سے 20 فیصد سے زائد جعل سازی اور پری ٹیکسٹنگ (ایک خاص قسم کی سوشل انجینئرنگ تکنیک جو متاثرین کو معلومات فراہم کرنے پر اکساتی ہے) شامل تھی۔
سیکیورٹی سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی میک ایفی کے چیف ٹیکنیکل آفسر اسٹیو گروبمین نے گزشتہ ہفتے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’مثال کے طور پر مصنوعی ذہانت ’ان تمام ڈیٹا کا فائدہ اٹھا سکتی ہے جو گزشتہ چند برسوں کے دوران چوری کیا گیا، اس کے ذریعے کسی مخصوص فراڈ کی تخلیق کو خودکار بنایا جا سکے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایک ایسی چیز ہے جو چند سال پہلے انسانوں کی فوج کے بغیر ممکن نہیں تھی۔
حملہ آور فوری نتائج حاصل کرنے کے بجائے، مہینوں یا سالوں میں اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے وہاں کے افراد کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سائبر سیکیورٹی ٹریننگ فرم ’نو بی فور‘ کے مارٹن کریمر کا کہنا تھا کہ اگر کسی ملازم کو دھوکہ دیا جاتا ہے تو حملہ آور اس وقت تک انتظار کرسکتے ہیں جب تک کہ یہ شخص بہت بااثر نہیں ہو جاتا یا ان کے لیے رقم وصول کرنے کا اچھا موقع نہیں ہوتا۔
اسٹیو گروبمین کے مطابق ’ڈیپ فیک ویڈیو کی تازہ ترین صورتحال ایک ایسے مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں کوئی بھی صارف مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر اور حقیقی تصویر کے درمیان بہت مشکل سے فرق کرسکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ صارفین کو ویڈیو پر بھی اسی طرح کے شکوک و شبہات کرنے کی ضرورت ہے جیسا کہ اب بہت سے لوگ تصاویر پر کرتے ہیں، جہاں ’فوٹوشاپ‘ کا استعمال عام ہوچکا ہے









































