چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد کی سینٹرل زونل آفس لاہور میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو: اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل پنجاب بی آئی ایس پی ناصر خلیلی بھی ان کے ہمراہ تھےبی آئی ایس پی سیاسی و مذہبی وابستگی سے بالاتر ایک قومی سماجی تحفظ پروگرام ہے، جو اس وقت ملک کے 98 لاکھ غریب و مستحق گھرانوں کو مالی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس پروگرام نے نہ صرف پاکستان کی غریب خواتین کو شناخت دی بلکہ ب فارم کی شرط کی بدولت بچوں کی پیدائش کی رجسٹریشن میں بھی خاطرخواہ اضافہ ہوا۔ بلوچستان میں نشوونما اور تعلیمی وظائف پروگرام میں شمولیت کے لیے پی ایم ٹی کی حد 32 سے بڑھا کر 60 کر دی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ گھرانے اس سے مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دنیا بھر میں ہنر مند افراد کی مانگ کو مدنظر رکھتے ہوئے بینظیر ہنر مند پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے، جس کا مقصد مستحق خواتین اور ان کے خاندانوں کو فنی تربیت دے کر انہیں خود کفیل بنانا ہے تاکہ وہ غربت کے دائرے سے باہر آ سکیں۔ چیئرپرسن نے یہ بھی بتایا کہ نئے بینکنگ ماڈل کے تحت چھ بینکوں کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں اور اسٹیٹ بینک کے تعاون سے مستحق خواتین کے بینک اکاؤنٹس کھولنے کے پائلٹ مرحلے کا آغاز جلد کیا جارہا ہے، جہاں بائیومیٹرک تصدیق کے بعد رقوم کی شفاف ادائیگی یقینی بنائی جائے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ صدر پاکستان آصف علی زرداری کی خصوصی ہدایت کے مطابق مستحق خواتین کو باعزت اور شفاف طریقے سے امداد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ کٹوتی سے متعلق شکایات کے ازالے کا بھی مؤثر نظام موجود ہے۔ چیئرپرسن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دنیا بھر میں بی آئی ایس پی کی ایک منفرد شناخت ہے، کئی افریقی و مغربی ممالک نے اس پروگرام کے مطالعاتی دورے کیے ہیں اور قومی سماجی و معاشی رجسٹری ڈیٹا بیس کو سراہا ہے۔ انہوں نےآگاہ کیا کہ بی آئی ایس پی کا سروے بالکل مفت ہے، اس کے لیے نہ کوئی فیس ہے نہ ہی فارم، اور بی آئی ایس پی کا میسج صرف 8171سے آتا ہے









































