اسلام آباد: وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کے ویژن کو آگے بڑھانے کیلئے کاروباری افراد سرمایہ کاری کریں۔
اسلام آباد میں وفاقی وزراء عطا تارڑ اور جام کمال کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصدق ملک کا کہنا تھا کہ سعودی تجارتی وفد پاکستان کے اہم دورے پر ہے، پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے 30 سے 35 کمپنیاں آئی ہوئی ہیں، ہمارا سعودی عرب سے بھائی جیسا رشتہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد ہے ایک نیا خاکہ آپ کے سامنے لایا جائے، ملک ملک میں مایوسی پھیلی ہوئی ہے کہ یہ ہو جائے گا وہ ہو جائے گا، ایسا کچھ نہیں ہوگا، ملک آگے بڑھے گا، ہم اس ناامیدی کو ختم کر رہے ہیں، نئی امید کی طرف دیکھیں، ہمارے بچوں کو نیا روزگار ملے گا، ہمارے نوجوان سعودی کمپنیوں کے ساتھ مل کر چھوٹے چھوٹے کاروبار کریں گے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں ملک میں ناامیدی کا کلچر ختم ہو، ایک نئے معاشرے کو تشکیل دیں جس میں یقین اور امید ہو، پہلے جی ٹو جی ایک معاہدہ ہوا، پھر وزیراعظم خود گئے، وزیراعظم نے کہا ہم جی ٹو جی نہیں بی ٹو بی چاہتے ہیں، وزیراعظم نے کہا ہم مدد نہیں کاروبار چاہتے ہیں، آج جہاز بھر کر کاروباری لیڈر یہاں آ چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی کے پاس دولت ہے تو کسی کے پاس سوچ ہے، جب ایک لیول پلیئنگ فیلڈ ہوگی تو ہنرمند بھی اسی رفتار سے چلے گا، ہم سیٹھوں کے خلاف نہیں، ملک پر چند لوگوں کی اجارہ داری ہے وہ اب نہیں رہے گی، اب لال فیتہ نہیں چلے گا، ہنرمند نوجوانوں کیلئے ریڈ کارپٹ بچھایا جائے گا۔
مصدق ملک کا کہنا تھا کہ سعودی کمپنیاں یہاں کاروبار کر رہی ہیں، دوسری جانب ایک ناامیدی کا بازار گرم ہے، یہ نہیں ہوسکتا کہ میں آپ کو گرا دوں، کوئی مجھے دھکا مار دے، رواداری ،میانہ روی اور اعتدال میں معاشرہ بنانے کیلئے چل رہے ہیں، اب سرمایہ کاری ہوگی نہیں بلکہ ہو رہی ہے۔
خبر کی مزید تفصیل شامل کی جا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔








































