’ملکی سلامتی پر سیاسی جماعتوں کی آرمی چیف سے ملاقات انتہائی خوش آئند ہے

’ملکی سلامتی پر سیاسی جماعتوں کی آرمی چیف سے ملاقات انتہائی خوش آئند ہے‘

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور مسلم لیگ (ن) کیمرے کے سامنے دوستانہ ماحول میں نظر آئے، عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر کیس میں سزائیں سنائی گئیں، بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف سے ملاقات ہوئی جوکہ پی ٹی آئی اور فوج کے درمیان رابطے کا پہلا باضابطہ اعتراف تھا اور آخر میں کرم امن معاہدہ، جو شروع ہونے سے پہلے ہی ناکام ہوگیا۔

لیکن ان تمام شہ سرخیوں میں پشاور میں ہونے والے اجلاس کو نہیں بھولنا چاہیے جہاں آرمی چیف نے خیبرپختونخوا کی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے سیاستدانوں سے ملاقات کی۔ پی ٹی آئی، جماعت اسلامی سے عوامی نیشنل پارٹی تک اور تمام چھوٹی جماعتوں جن کے سربراہ آفتاب شیر پاؤ اور پرویز خٹک ہیں، سب اس اجلاس میں موجود تھے۔

شاید یہ پہلا موقع تھا جب آرمی چیف نے کسی صوبے کے تمام سیاستدانوں سے عوامی سطح پر ملاقات کی ہو اور خیبرپختونخوا کی حالیہ سیکیورٹی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہو۔ اس نے نہ صرف یہ ظاہر کیا کہ ریاست اور معاشرے کو جن چیلنجز کا سامنا ہے انہیں تسلیم کیا جارہا ہے بلکہ یہ اشارہ بھی دیا کہ متعلقہ حکام کو یہ شعور ہے کہ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے محض ملٹری آپریشن کافی نہیں ہے۔

اس اجلاس کے مناظر نے پیغام دیا کہ سیکیورٹی سے متعلق مسائل سے نمٹنے کے لیے عوام کے احساسات و جذبات کو سمجھنا اور ان کی شمولیت کا ادراک ہونا انتہائی ضروری ہے جبکہ یہ شعور بھی ہونا چاہیے کہ عوام اور ریاست کے درمیان سیاستدان پُل کا کام کرتے ہیں۔ اگر آپ کو پرویز مشرف کے دور کے بعد ہونے والے فوجی آپریشنز یاد ہوں تو آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ سیاستدان اس میں کتنا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

صرف یہی نہیں۔ تصاویر کے علاوہ رپورٹس نے بتایا کہ سیاستدانوں نے اس اجلاس میں کیا مؤقف اپنائے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق، ’سب نے افغان عبوری حکومت سے رسمی یا غیر رسمی بات چیت کی تجویز دی‘۔ مزید کہا گیا کہ ’تمام شرکا اس بات پر متفق تھے کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون بڑھا کر خطے میں امن لایا جاسکتا ہے‘۔

یہ حیران کُن تھا کیونکہ ان دنوں خبروں میں محض سرکاری بیانات یا اعلامیہ بار بار دہرائے جاتے ہیں اور معاملے کی یک طرفہ رپورٹنگ کی جاتی ہے جہاں بات چیت یا شرکا کے درمیان خیالات کے تبادلے سے متعلق بہت کم ہی بات کی جاتی ہے۔ سیکیورٹی اور اس جیسے دیگر معاملات کی رپورٹنگ کی بات آتی ہے تو یہ بات سچ بھی لگتی ہے۔ یہ اس وجہ سے نہیں کہ اسلام آباد میں موجود صحافی اپنے کام میں سُست ہیں۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ سیاستدانوں نے کسی سٹکام ڈرامے کے اداکار کی طرح اپنے کردار کو قبول کرلیا ہے جہاں وہ تب ہی کوئی ردعمل دیتے ہیں جب انہیں ہدایت دی جاتی ہے۔

کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ بات چیت کرنے کے قمر جاوید باجوہ اور فیض حمید کے مشترکہ فیصلے پر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ انہوں نے بار بار اسی فیصلے کی حمایت کی حالانکہ اب ان میں سے بہت سے چہرے ٹی ٹی پی کو واپس پاکستان آنے کی اجازت دینے کے پی ٹی آئی کے فیصلے کو غلط قرار دیتے ہیں اور اس حوالے سے بیانات دیتے نظر آتے ہیں۔ لگتا ہے کہ جیسے وہ یہ بھول گئے ہیں کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی حکومت میں بھی یہی پالیسیز برقرار تھیں جہاں جون 2022ء میں تصدیق کی کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

لیکن قمر جاوید باجوہ اور فیض حمید کے جانے کے بعد جب افغانستان کے حوالے سے مؤقف میں تبدیلی آئی تو اقتدار میں بیٹھے تمام عناصر مذاکرات کے مخالف ہوگئے اور کابل کی عبوری حکومت کے سخت ناقد بن گئے۔ دیگر الفاظ میں موجودہ پالسیز کی حمایت کرنا ہمارے سیاستدانوں کے لیے معمول بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے گزشتہ ہفتے ہونے والا اجلاس اہمیت کا حامل ہے۔ اس اجلاس کے بعد آنے والی رپورٹس نے ظاہر کیا کہ ہمارے سیاستدان نہ صرف موجودہ پالیسیز پر فوج سے مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں بلکہ ان کے درمیان اس مؤقف کے حوالے سے اتفاقِ رائے بھی ہے۔

یہ ایک حقیقی تبدیلی ہے اور اس تبدیلی کی پائیداری کے لیے اُمید کی جاسکتی ہے۔ ایک تو پہلے ہی ذکر کیا جاچکا کہ مشرف نے ظاہر کیا کہ صرف فوجی کارروائیاں کافی نہیں بلکہ اس کے لیے سیاستدانوں اور عوام کی حمایت کی ضرورت ہے جبکہ اس کے لیے سیاسی جماعتوں کو صرف خاموش پارٹنر سے بڑھ کر اہمیت دینا ہوگی۔

دوسری بات یہ کہ سیکیورٹی چیلنجز اور ان کے حل سے متعلق بحث ہونا ضروری ہے۔ بہت طویل عرصے سے سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی کے معاملات پر بات چیت اور فیصلے بند دروازوں کے پیچھے ہوتے آئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کسی نے آج تک ان پر اعتراضات نہیں اٹھائے۔

چنانچہ جب یہ خبریں سامنے آئیں کہ ریاست کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کررہی ہے تو اس حوالے سے بہت کم معلومات تھیں کہ ایسا فیصلہ کن وجوہات کی بنا پر کیا گیا اور جب یہ فیصلہ واپس لیا گیا تب بھی اس حوالے سے کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔

جب ٹی ٹی پی پاکستان پر حملے کررہی ہو اور کابل کی جانب سے انہیں روکنے کی خاطر خواہ کوششیں نہ کی جارہی ہوں تو ایسے میں ان کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنا آسان ہے لیکن ہمارے لیے یہ سوال اہم ہے کہ اس میں ہمیں کیا حاصل ہوگا؟ اگر گزشتہ فوجی کارروائیوں میں صرف ٹی ٹی پی کو افغانستان میں دھکیلنے (مکمل خاتمہ کیے بغیر) سے مسئلہ حل ہوا ہوتا حالانکہ اس وقت تو افغان حکومت اور فورسز سب ان کے خلاف تھے، تو پاکستان موجودہ وقت میں کیسے ان چیلنجز سے نمٹنے میں کامیاب ہوسکتا ہے؟ کیا ہماری فوجی کارروائیاں کرنے کی حکمت عملی میں کوئی کمی ہے یا ٹی ٹی پی کو مکمل طور پر ختم کرپانا ناممکن ہے؟

ساتھ ہی یہ سوال بھی انتہائی اہم ہے کہ مغرب اور مشرق دونوں سرحدوں پر حکومتوں سے دشمنی رکھنا، ہمارے لیے کتنا مناسب ہے؟ اب سے اہم یہ ہے کہ کیا ہمیں دہلی کے حوالے سے اپنی پالیسیز پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے یعنی کیا ہمیں واقعی افغانستان کے ساتھ وہی طریقہ کار اختیار کرنا چاہیے جیسا کہ ہم دہلی کے ساتھ کرتے ہیں جہاں ہر چیز سیکیورٹی کے گرد گھومتی ہے؟

گزشتہ دہائی یا اس سے زائد عرصے سے سنگین نوعیت کے حملوں کے بعد پاکستان نے افغانستان سے تجارت اور شہریوں کے داخلے پر متعدد بار پابندیاں لگائی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں سخت بیانات دینے کی بھی عادت ہوچکی ہے۔ گمان ہوتا ہے کہ جیسے پاکستان کے خیال میں سفارت کاری یا بات چیت سے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ پاکستان کے طریقہ کار کی افادیت پر سوال اٹھانے کے ساتھ ساتھ یہ سوال پوچھنا بھی اہم ہے کہ اس سے حکومت کو عوام کی حمایت کیسے حاصل ہوگی بالخصوص جب عوام ٹی ٹی پی کے حملوں کی وجہ سے معاشی نقصانات کا سامنا کررہے ہیں۔

شاید موجودہ پالیسی کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہو لیکن ہمیں اس حوالے سے بحث و مباحثہ کرکے اس نتیجے پر پہنچنا ہے جو نہ صرف حال پر توجہ مرکوز کرے بلکہ ماضی میں ہم سے جو ہوا اور جو نہ ہوسکا اس پر بھی روشنی ڈالے۔ ایسا کرنے سے ہمیں یہ بصیرت ملے گی کہ ہم نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنے میں ناکام کیوں رہے۔

بلاشبہ پشاور کا اجلاس ایک اہم اقدام تھا۔ امید کرتے ہیں کہ یہ اس نوعیت کا آخری اجلاس نہیں ہوگا جہاں تبادلہ خیال اور بات چیت ہو، بلکہ مستقبل میں ایسے بہت سے اجلاس ہوں گے

  • Related Posts

    پاکستانی مسافروں کیلئے بڑی خبر، یو اے ای پہنچنے پر طویل امیگریشن کارروائی سے چھٹکارا

    پاکستانی مسافروں کیلئے بڑی خبر، یو اے ای پہنچنے پر طویل امیگریشن کارروائی سے چھٹکارا وزیر داخلہ نے بتایا کہ یہ نظام پائلٹ منصوبے کے طور پر متعارف کرایا جائے…

    ’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید

    ’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید اداکار نے کہا کہ یہ معاملہ بھارت یا پاکستان کا نہیں بلکہ سینما کے خطرناک غلط…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    یہ بھی پڑھئے

    پاکستانی مسافروں کیلئے بڑی خبر، یو اے ای پہنچنے پر طویل امیگریشن کارروائی سے چھٹکارا

    پاکستانی مسافروں کیلئے بڑی خبر، یو اے ای پہنچنے پر طویل امیگریشن کارروائی سے چھٹکارا

    ’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید

    ’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید

    امریکا نے پاکستان کے ایف 16 طیاروں کے لیے 68 کروڑ ڈالر کے اپ گریڈ پیکج کی منظوری دے دی

    امریکا نے پاکستان کے ایف 16 طیاروں کے لیے 68 کروڑ ڈالر کے اپ گریڈ پیکج کی منظوری دے دی

    ’قانون میرے فائدے کیلئے نہیں بنایا گیا تھا‘ مریم نواز کا پراپرٹی ایکٹ کی معطلی پر اظہار تشویش

    ’قانون میرے فائدے کیلئے نہیں بنایا گیا تھا‘ مریم نواز کا پراپرٹی ایکٹ کی معطلی پر اظہار تشویش

    انٹرنیشنل فنانس کاپوریشن کا پاکستان میں پہلی مقامی کرنسی سرمایہ کاری کا اعلان

    انٹرنیشنل فنانس کاپوریشن کا پاکستان میں پہلی مقامی کرنسی سرمایہ کاری کا اعلان

    اپوزیشن کو پہلے بھی دعوت دی، اب بھی مذاکرات کیلئے تیار ہیں، وزیراعظم

    اپوزیشن کو پہلے بھی دعوت دی، اب بھی مذاکرات کیلئے تیار ہیں، وزیراعظم

    خیبرپختونخوا: کرک میں پولیس وین پر دہشتگردوں کا حملہ، پانچ پولیس اہلکارشہید

    خیبرپختونخوا: کرک میں پولیس وین پر دہشتگردوں کا حملہ، پانچ پولیس اہلکارشہید

    عارف حبیب گروپ نے پی آئی اے کو 135 ارب روپے میں خرید لیا

    عارف حبیب گروپ نے پی آئی اے کو 135 ارب روپے میں خرید لیا

    ٹک ٹاک کا پاکستان میں چھوٹے کاروبار کیلئے سیلف سروس ایڈورٹائزنگ پلیٹ فارم متعارف

    ٹک ٹاک کا پاکستان میں چھوٹے کاروبار کیلئے سیلف سروس ایڈورٹائزنگ پلیٹ فارم متعارف

    پاکستانی کوہ پیما ثمینہ بیگ نے نئی تاریخی کامیابی حاصل کرلی

    پاکستانی کوہ پیما ثمینہ بیگ نے نئی تاریخی کامیابی حاصل کرلی

    شوگر انڈسٹری کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے پالیسی ڈرافٹ تیار

    شوگر انڈسٹری کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے پالیسی ڈرافٹ تیار

    چناب کے بہاؤ میں اچانک تبدیلی پر پاکستان کا اظہارِ تشویش، بھارت سے وضاحت طلب

    چناب کے بہاؤ میں اچانک تبدیلی پر پاکستان کا اظہارِ تشویش، بھارت سے وضاحت طلب

    ’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید

    ’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید

    بھارت میں مسلم خاتون کے حجاب کھینچنے کے واقعے کی شکایت درج

    بھارت میں مسلم خاتون کے حجاب کھینچنے کے واقعے کی شکایت درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا جسٹس جہانگیری کو عہدے سے ہٹانے کا حکم، ڈگری تقرری کے وقت ’غیر معتبر‘ قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا جسٹس جہانگیری کو عہدے سے ہٹانے کا حکم، ڈگری تقرری کے وقت ’غیر معتبر‘ قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بلدیاتی الیکشن اور سی ڈی اے کو تحلیل کرنے سے متعلق سنگل بینچ کا فیصلہ معطل

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بلدیاتی الیکشن اور سی ڈی اے کو تحلیل کرنے سے متعلق سنگل بینچ کا فیصلہ معطل

    چلاس میں شاہراہ قراقرم پر لینڈسلائیڈنگ، 6 گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں، 2 دریا میں جاگریں

    چلاس میں شاہراہ قراقرم پر لینڈسلائیڈنگ، 6 گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں، 2 دریا میں جاگریں

    شدت پسند گروہ افغانستان اور اس سے باہر کی دنیا کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں، وزیراعظم

    شدت پسند گروہ افغانستان اور اس سے باہر کی دنیا کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں، وزیراعظم

    اسلام آباد کچہری کے باہر خود کش بمبار کے حملے میں 12 افراد شہید، 22 زخمی

    اسلام آباد کچہری کے باہر خود کش بمبار کے حملے میں 12 افراد شہید، 22 زخمی

    پاک فوج نے تیسری انٹر سروسز کامبیٹ شوٹنگ چیمپئن شپ 2025 جیت لی

    پاک فوج نے تیسری انٹر سروسز کامبیٹ شوٹنگ چیمپئن شپ 2025 جیت لی

    مصنوعی ذہانت کے انقلاب کو توانائی کے بحران، عمارتوں کی جلد تکمیل کا مسئلہ درپیش

    مصنوعی ذہانت کے انقلاب کو توانائی کے بحران، عمارتوں کی جلد تکمیل کا مسئلہ درپیش

    نواز شریف کی حکومت بحال ہونے کی خوشی میں یونیورسٹی مٹھائی لے کر گیا تھا، نورالحسن

    نواز شریف کی حکومت بحال ہونے کی خوشی میں یونیورسٹی مٹھائی لے کر گیا تھا، نورالحسن

    اسلام آباد کچہری کے باہر پارکنگ میں کھڑی گاڑی میں دھماکا، 3 افراد زخمی

    اسلام آباد کچہری کے باہر پارکنگ میں کھڑی گاڑی میں دھماکا، 3 افراد زخمی

    شادی کے وقت کہا گیا تھا زیادہ عرصہ شادی نہیں چلے گی، یاسرہ رضوی

    شادی کے وقت کہا گیا تھا زیادہ عرصہ شادی نہیں چلے گی، یاسرہ رضوی

    ڈونلڈ ٹرمپ کا احمد الشراع سے تاریخی ملاقات کے بعد شام کی ہرممکن مدد کے عزم کا اظہار

    ڈونلڈ ٹرمپ کا احمد الشراع سے تاریخی ملاقات کے بعد شام کی ہرممکن مدد کے عزم کا اظہار

    ’بالاکوٹ حملے کے بعد قومی سلامتی کمیٹی نے جنرل باجوہ کے منصوبے کی حمایت کی تھی

    ’بالاکوٹ حملے کے بعد قومی سلامتی کمیٹی نے جنرل باجوہ کے منصوبے کی حمایت کی تھی

    امریکی سینیٹ سے حکومت کے شٹ ڈاؤن کو ختم کرنے کیلئے فنڈنگ بل منظور

    امریکی سینیٹ سے حکومت کے شٹ ڈاؤن کو ختم کرنے کیلئے فنڈنگ بل منظور

    عمران خان اور وزیراعظم کے استثنیٰ کی شق کے درمیان کوئی ’تعلق‘ نہیں، رانا ثنااللہ

    عمران خان اور وزیراعظم کے استثنیٰ کی شق کے درمیان کوئی ’تعلق‘ نہیں، رانا ثنااللہ

    بھاری جرمانوں پر عوامی ردعمل کے بعد حکومت سندھ کا ای چالان کی رقم میں کمی پر غور

    بھاری جرمانوں پر عوامی ردعمل کے بعد حکومت سندھ کا ای چالان کی رقم میں کمی پر غور

    کار دھماکے کی تحقیقات انسداد دہشتگردی قانون کے تحت کی جا رہی ہیں، دہلی پولیس

    کار دھماکے کی تحقیقات انسداد دہشتگردی قانون کے تحت کی جا رہی ہیں، دہلی پولیس

    شدت پسند گروہ افغانستان اور اس سے باہر کی دنیا کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں، وزیراعظم

    شدت پسند گروہ افغانستان اور اس سے باہر کی دنیا کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں، وزیراعظم

    27ویں آئینی ترمیم 2025 کا بل قومی اسمبلی میں پیش

    27ویں آئینی ترمیم 2025 کا بل قومی اسمبلی میں پیش

    کراچی: نجی ہسپتال میں پیدائش کے بعد ’بل کی عدم ادائیگی‘ پر نوزائیدہ بچہ فروخت، مقدمہ درج

    کراچی: نجی ہسپتال میں پیدائش کے بعد ’بل کی عدم ادائیگی‘ پر نوزائیدہ بچہ فروخت، مقدمہ درج

    کراچی: 2 روز قبل گرفتار کالعدم تنظیم کے ارکان دھماکا خیز مواد رکھنے کے مقدمے سے بری

    کراچی: 2 روز قبل گرفتار کالعدم تنظیم کے ارکان دھماکا خیز مواد رکھنے کے مقدمے سے بری

    کراچی: پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس کے دوسرے ایڈیشن کا آغاز

    کراچی: پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس کے دوسرے ایڈیشن کا آغاز

    وزیراعظم نے27ویں ترمیم کی منظوری کیلئے پیپلزپارٹی کی حمایت مانگی ہے، بلاول بھٹو

    وزیراعظم نے27ویں ترمیم کی منظوری کیلئے پیپلزپارٹی کی حمایت مانگی ہے، بلاول بھٹو

    ایران کا تباہ شدہ جوہری تنصیبات پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ تعمیر کرنے کا اعلان

    ایران کا تباہ شدہ جوہری تنصیبات پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ تعمیر کرنے کا اعلان

    کراچی: کنواری کالونی منگھوپیر روڈ سے فتنۃ الخوارج کے انتہائی مطلوب 3 دہشتگرد گرفتار

    کراچی: کنواری کالونی منگھوپیر روڈ سے فتنۃ الخوارج کے انتہائی مطلوب 3 دہشتگرد گرفتار

    نیویارک کا میئر کون ہوگا؟ ڈرامائی انتخاب سے ایک دن قبل زہران ممدانی کو برتری حاصل

    نیویارک کا میئر کون ہوگا؟ ڈرامائی انتخاب سے ایک دن قبل زہران ممدانی کو برتری حاصل

    راولپنڈی: غیر قانونی افغان شہریوں کو جائیداد کرائے پر دینے والے 18 افراد کے خلاف مقدمات درج

    راولپنڈی: غیر قانونی افغان شہریوں کو جائیداد کرائے پر دینے والے 18 افراد کے خلاف مقدمات درج

    نیدرلینڈ کا ساڑھے 3 ہزار سال قدیم مجسمہ مصر کو واپس کرنے کا اعلان

    نیدرلینڈ کا ساڑھے 3 ہزار سال قدیم مجسمہ مصر کو واپس کرنے کا اعلان