ایران کا میزائل حملوں میں 4 اسرائیلوں کی ہلاکت کے بعد جنگ بندی کے نفاذ کا اعلان
ایران نے اسرائیل پر میزائل حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اعلان کردہ جنگ بندی کے نفاذ کی تصدیق کردی، اس سے قبل ایران کے اسرائیل پر میزائل حملوں میں 4 اسرائیلی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے پریس ٹی وی کے مطابق ایران نے اسرائیل پر 4 میزائل حملوں کے بعد جنگ بندی کے نفاذ کا اعلان کردیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے بھی جنگ بندی کے نفاذ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ فریقین سے خلاف ورزی نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
امریکی صدر نے اس سے قبل کہا تھا کہ مرحلہ وار جنگ بندی 24 گھنٹے کا عمل ہوگا، جس کا آغاز منگل کو صبح 4 بجے (جی ایم ٹی) کے قریب ایران کی جانب سے یکطرفہ طور پر تمام فوجی کارروائیاں روکنے سے ہوگا، انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل اس کے 12 گھنٹے بعد جنگی کارروائیاں روک دے گا۔
جنگ بندی کے نفاذ سے قبل ایران کے اسرائیل پر میزائل حملوں میں 4 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی ہنگامی امدادی اداروں نے منگل کو بتایا کہ جنوبی اسرائیل کے شہر بئر السبع میں ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کا آغاز ہونے والا تھا۔
اسرائیل کے امدادی ادارے میگن ڈیوڈ ایڈم (ایم ڈی اے) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ جنوبی اسرائیل میں میزائل گرنے کے مقام پر اب تک 4 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے، 2 افراد کو درمیانے درجے کی چوٹوں کے ساتھ اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جبکہ تقریباً 6 افراد کو معمولی زخموں کے باعث موقع پر ہی طبی امداد دی جا رہی ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا ’اِرِب‘ نے اطلاع دی ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے ان دو حریف ممالک کے درمیان مرحلہ وار جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایران کی جانب سے اسرائیل پر 5 مرتبہ میزائل داغے گئے ۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق جنوبی اسرائیل کے علاقے بیر شیبہ میں ایران کے میزائل حملوں کے باعث ایک گھنٹے کے دوران 6 مرتبہ سائرن بجے، عمارت پر میزائل لگنے سے4 افراد ہلاک اور کم ازکم 11 زخمی ہوئے۔
اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج نے منگل کی صبح طلوع آفتاب سے قبل دو گھنٹوں کے دوران ایران کی جانب سے کئی میزائل حملوں کی لہروں کا اعلان کیا، جن کے دوران ساحلی شہر تل ابیب سمیت شمال اور جنوب کے مختلف علاقوں میں کئی بار خطرے کے سائرن بجائے گئے۔
دوسری جانب، تہران میں بھی رات بھر دھماکوں کا سلسلہ جاری رہا، جہاں دارالحکومت کے شمالی اور وسطی علاقوں میں ہونے والے دھماکوں کو اے ایف پی کے صحافیوں نے اس تنازع کے آغاز کے بعد سے سب سے شدید قرار دیا۔
اے ایف پی کے مطابق جارحیت میں کسی بھی قسم کی کمی عالمی رہنماؤں کے لیے ایک بڑی راحت ثابت ہوگی، جو اس بڑھتے ہوئے تشدد کے وسیع تر علاقائی تصادم میں تبدیل ہونے کے خدشے سے شدید پریشان ہیں۔
اسرائیلی فوج کا 500 ایرانی میزائل، ایک ہزار ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ
اسرائیلی فوج کے مطابق 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے 500 سے زائد میزائل اور تقریباً ایک ہزار ڈرونز کو تباہ کیا۔
جنگ کے 12 دن گزرنے کے باوجود ہونے والے مکمل نقصانات کا اندازہ تاحال نہیں لگایا جا سکا، کیونکہ فوجی سنسرشپ کے قوانین معلومات کی اشاعت کو محدود کرتے ہیں، تاہم ملک بھر میں کم از کم 50 میزائل حملوں کے اثرات کی تصدیق ہو چکی ہے اور منگل کے حملوں سے پہلے سرکاری ہلاکتوں کی تعداد 24 تھی۔
ایران کی وزارت صحت کے مطابق 12 روز کے دوران اسرائیل کے حملوں میں 400 شہری شہید ہوئے








































