ایران نے کبھی مذاکرات کا راستہ ترک نہیں کیا، اس وقت توجہ جارحیت کا مقابلہ کرنے پر ہے، وزیر خارجہ
اگر ٹرمپ سفارتکاری کیلئے سنجیدہ ہیں اور یہ جنگ روکنا چاہتے ہیں تو اسرائیل کی جارحیت روکنا ہوگی، واشنگٹن سے ایک کال نیتن یاہو جیسے شخص کو خاموش کرانے کیلئے کافی ہے، عباس عراقچی
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران سفارتکاری کے لیے سنجیدہ ہے اور مذاکرات کا راستہ کبھی ترک نہیں کیا لیکن اس وقت توجہ اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کرنے پر ہے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے ہم منصبوں سے رابطہ کیا، ٹیلی فونک گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حملے سفارت کاری کے لیے دھچکا ہیں۔
عباس عراقچی نے کہا کہ تین یورپی ممالک کے وزرائےخارجہ سے سفارت کاری سے متعلق بات کی اور انہیں بتایا کہ ایران نےکبھی مذاکرات کا راستہ ترک نہیں کیا، اس وقت جارحیت کا مقابلہ کرنے پر ہے








































