🐜 چیونٹیوں کا منہ جوڑنا 🐜
چیونٹیاں چلتے چلتے منہ سے منہ جوڑ کر کیا کرتی ہیں؟ دلچسپ معلومات۔
اللّه نے اپنی تمام محلوقات کو بیشمار صلاحیتوں سے نوازا ہے جیسا کے پہاڑوں میں رہنے والے انسان وقت سے پہلے محتلف خدشات کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔ مثلا اگر طوفان آنے والا ہو تو انھیں آسماں کی رنگت اور ہوا کی بو سے اندازہ ہو جاتا ہے۔
انسان تو انسان اللّه نے چرند اور پرند میں بھی ایسی خصوصیات رکھی ہیں جس سے یہ نہ صرف دشمن دوست کا پتا لگا لیتے ہیں بلکہ خطرات کو بھانپ بھی لیتے ہیں۔
اگر طوفان یا زلزلہ آنے والا ہو تو گھوڑا اپنے کان گھمانے لگتا ہے۔ اسی طرح بارش سے پہلے چیونٹیاں اپنا کھانا اکٹھا کر لیتی ہیں اور یہ بھی جس جگہ سیلاب یا طوفان آنا ہو وہاں سے جانور پہلے ہی ہجرت کر جاتے ہیں۔ محتصر بات یہ ہے کہ اللّه نے تمام جانوروں میں عجیب و غریب حصوصیات رکھی ہیں جنکو دیکھ کے انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
قرآن میں اللّه کا ارشاد ہے۔۔۔
“کیا ہے لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہیں۔”
(القرآن، سورہ محمّد)
چلیں ذرا اب قرآن میں غور کرتے ہیں اور اپنے ٹاپک کی طرف آتے ہیں کہ چیونٹیاں چلتے ہوے منہ سے منہ لگا کر کیا کرتی ہیں اور یہ بھی کے چیونٹیوں کو بارش سے پہلے ہی بارش ہونے کا علم کیسے ہو جاتا ہے۔
چیونٹیوں کے متعلق قرآن مجید میں ارشاد ہے۔۔۔
“اور سلیمان علیہ اسلام نکلے اپنے پورے لشکر کو لیکر جس میں انسان ، جن اور تمام جانور شامل تھے فوج بندی کیے ہوے جانے لگے۔ یہاں تک وہ گزرے وادی نمل سے، جو چیونٹیوں کی وادی تھی، ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹی سے کہا ، اے چیونٹیو اپنے گھروں میں گھس جاؤ کہیں تمہیں سلیمان اور اس کی فوجیں نہ پس ڈالیں اور انھیں خبر بھی نہ ہو۔ اور سلیمان نے جب چیونٹی کی بات سنی تو بہت مسکراے اور اپنے لشکر کا رخ موڑ لیا۔”
(القرآن، سورہ النمل)
چیونٹیاں حضرت سلیمان علیہ السلام
سے بات کرتی تھیں۔ اللّه نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو یہ صلاحیت عطا کی تھی-
جو بات قرآن نے 1400 سال پہلے بتائی وہ سائنس آج ہمیں مختلف تجربات کرنے کے بعد بتا رہی ہے۔
سائنس کے مطابق چیونٹیاں ایک بہت ہی زبردست معاشرتی سسٹم میں رہتی ہیں اور ایک بہت ہی پچیدہ سسٹم سے بات کرتی ہیں۔
سائنس نے بتایا کے چیونٹیاں آواز سے بات نہیں کرتی بلکہ ڈیٹا (data) پاس کر کے بات کرتی ہیں اور ان کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ یہ منہ سے کچھ مواد نکال کر دوسری چیونٹی کے منہ پر چپکا دیتی ہیں اور سامنے والی چیونٹی وہ بات سمجھ لیتی ہے۔
یہ تو ہم سب نے بھی دیکھا ہوگا کہ چیونٹیاں رک کر دوسری چیونٹی سے منہ جوڑ کر پھر اگے گزر جاتی ہیں۔
موبائل فونز میں آپ نے infrared تو دیکھا ہوگا جس سے ایک فون کو دوسرے فون سے جوڑ کے data منتقل کیا جاتا ہے۔ آج کل فونز میں اس کی جگہ bluetooth نے لے لی ہے۔ شاید چیونٹیوں کی یہ خصوصیت کو مدنظر رکھتے ہوے infrared ایجاد ہوا۔
اب آتے ہیں دوسری بات کی طرف کہ چیونٹیاں کیسے معلوم کر لیتی کہ بارش ہونے والی ہے۔۔۔
آپ نے دیکھا ہوگا کہ بارش ہونے سے قبل چیونٹیاں اپنے گھر کے گرد گول گول چکر لگانا شروع کر دیتی ہیں اور مٹی کے پہاڑ بنا لیتی ہیں تاکہ بارش کا پانی ان کے گھر میں نہ جا سکے۔
چیونٹیوں میں قدرتی طور پر ایک senser موجود ہوتا ہے جس کو hydrofolic کہتے ہیں۔ جب ہوا میں موجود نمی کا تناسب زیادہ ہو جاتا ہے تو یہ سینسر (senser) اس کو محسوس کرتا ہے اور دماغ تک یہ پیغام پہنچاتا ہے اس طرح چیونٹیاں بارش سے پہلے ہی اپنے کھانے پینے اور گھر کا انتظام کر لیتی ہیں۔
محکمہ موسمیات بھی یہ عمل کو دوہراتے ہوے ہوا میں نمی کو نوٹ کرتے ہیں اور بارش کے متعلق آگاہ کرتے ہیں۔
🔘 ہمیں قرآن کو پڑھنے ک ساتھ ساتھ سمجھنے کی بھی بہت ضرورت ہے۔
اللّه قرآن میں ارشاد فرماتا ہے کہ
کیا یہ لوگ عقل نہیں رکھتے, بیشک اس میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔
اللّه ہمیں قرآن کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے..
التماس دعا 🤲










































