وزیراعظم کو اندازہ ہی نہیں کہ اِن الفاظ سے متاثرین کے زخموں پر کتنا گہرا گھاؤ لگا ہو گا،شاید وہ بھول گئے ہیں کہ وہ ایک ملک کے وزیراعظم ہیں۔ عارف حمید بھٹی کا تجزیہ
وزیراعظم عمران خان نے سانحہ مچھ کے لواحقین کے مطالبات کو غیر آئینی قرار دے دیا ہے انہوں نے کہا کہ ہزارہ برادری کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ آج تدفین کریں آج کوئٹہ پہنچ جاؤں گا۔انہوں نے کہا کہ تدفین کے لیے وزیراعظم کی آمد کی شرط رکھنا مناسب نہیں، سانحہ مچھ کے متاثرین کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے ہیں۔
ہزارہ براداری کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم آئیں گے تو لاشوں کی تدفین کی جائے گی لیکن کسی بھی ملک کے وزیراعظم کو اس طرح سے بلیک میل نہیں کیا جا سکتا۔ اسی حوالے سے سینئر صحافی عارف حمید بھٹی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے لفظ ’ بلیک میل ‘ استعمال کیا،انہیں اندازہ ہی نہیں کہ ان الفاظ سے متاثرین کے زخموں پر کتنا گہرا گھاؤ لگا ہو گا۔
انہیں اندازہ نہیں کہ بلیک میل لفظ کس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
نہ تو وہ سیاسی لوگ ہیں اور نہ ہی محلوں میں بیٹھے ہیں،وہ نہ تو حکومت گرا رہے ہیں اور نہ ہی بنا رہے ہیں،وزیراعظم ویسے کہہ دیتےکہ مظاہرین کے مطالبات تسلیم کر لیے ہیں لیکن بلیک میل کا لفظ بہت سخت ہے جس کا گھاؤ گہرا ہو گا۔وزیراعظم کو اس لفظ کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ عمران خان کے الفاظ سے مظاہرین کے غم و غصے میں زیادہ اضافہ ہو گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بڑی تکلیف دن بات ہے، شاید وہ بھول گئے ہیں کہ وہ ایک ملک کے وزیراعظم ہیں۔
ایک طرف وہ ہزاراہ برادری کے غم میں شریک ہونے کی باتیں کرتے ہیں تو دوسری طرف بلیک میل کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ایسے موقع پر کبھی بھی کسی کے زخموں پر نمک نہیں چھڑکتے۔مجھے لگتا ہے کہ وزیراعظم کے کچھ نادان ترجمان ان کے لیے بہت مشکل پیدا کریں گے۔پورے ملک میں اس واقعے پر احتجاج ہو رہا ہے اور اس احتجاج کو بلیک میل کا نام دینا درست نہیں۔










































