دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ سائیکلیں عوامی جمہوریہ چین میں استعمال ہوتی ہیں۔گویا کروڑوں چینی اپنی سائیکلوں پر کام اور روزگار کے لئے روزانہ سفر کرتے ہیں۔انقلاب چین کے ابتدائی دور میں وہاں گاڑیاں انجینئروں کے لئے مخصوص تھیں،وزیراعظم اور وزرا بھی سائیکل پر دفتر آیا جایا کرتے تھے۔جنرل ضیاء الحق نے بھی یہ سلسلہ جاری کیا تھا۔
وہ اپنے دفتر سائیکل پر جاتے تھے۔برصغیر میں سب سے زیادہ سائیکلیں حیدر آباد دکن شہر میں ہوتی تھیں،جبکہ پونا(بھارت)میں سائیکل سوارخواتین کی تعداد سب سے زیادہ بتائی جاتی تھی۔
سائیکلیں اب بڑے شہروں میں کم سے کم تر ہوتی جا رہی ہیں،بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔تیز رفتار گاڑیوں،بسوں،رکشاؤں کے سامنے اس کی حیثیت ہی کیا ہے۔
اس کے علاوہ گاڑیوں کی کثرت نے سائیکلنگ کو خطرناک بھی بنا دیا ہے،جب کہ یہ انسانی صحت کے لئے ایک نعمت کا درجہ رکھتی ہے۔
سائیکل چلا کر ہر شخص اپنی صحت برقرار رکھ سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ یورپ اور امریکا میں کم از کم صحت کے لئے اس کا استعمال ماضی میں بہت تھا اور اب بھی ہے۔وہاں کے شہروں میں سائیکل چلانے کے لئے الگ محفوظ راستوں کا اہتمام بھی ہوتا ہے۔
اگر آپ کے گھر میں کوئی سائیکل بے کار کھڑی ہو تو کسی کباڑیے کے حوالے کرنے سے پہلے اس کے ذریعے اپنی صحت و توانائی میں اضافے کے بارے میں غور کر لیجیے۔
ضروری نہیں ہے کہ آپ اسے سڑکوں پر دوڑائیں اور اپنی جان جوکھوں میں ڈالیں۔آپ کھڑی سائیکل پر سواری کرکے اور اس کے پیڈل گھما کر بھی اپنی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
اپنی سائیکل کو نکالیے،صاف کیجیے،اسے تیل دیجیے اور اس پر سواری کرکے جسم میں جمع فاضل چربی ٹھکانے لگانے کی کوشش آج ہی سے شروع کر دیجیے۔اسے معمولی ورزش نہ سمجھیے۔کیا آپ یقین کریں گے کہ اس ورزش پر بھی ترقی یافتہ دنیا میں تحقیق ہو چکی ہے،جس کے مطابق کھڑی سائیکل کے پیڈل گھمانے سے روزانہ 360 حرارے (کیلوریز) جلتے ہیں اور بارہ ہفتوں میں تقریباً 9 پونڈ وزن کم ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ پٹھوں کے گوشت میں 3 پونڈ اضافہ ہو جاتا ہے۔آپ جانتے ہی ہوں گے کہ پٹھوں ہی میں جسم کی فاضل شکر اور چربی خوب جلتی ہے،بشر طے کہ انھیں ورزش سے متحرک رکھا جائے۔پٹھے جتنے متحرک ہوں گے،آپ کی صحت اتنی ہی اچھی اور توانائی اسی قدر زیادہ ہو گی۔حیرت تو یہ ہے کہ یہ سب فاقہ کشی،یعنی ڈائٹنگ کے بغیرہوتا ہے۔
سائیکلنگ کا شمار ایروبک (Aerobic) ورزشوں میں ہوتا ہے،یعنی اس کے دوران آپ کے قلب کی رفتار تیز رہتی ہے۔
آپ تیز سانس لیتے اور خوب اوکسیجن جذب کرتے ہیں۔ہفتے میں پانچ روز پیڈل گھما کر آپ اپنے قلب اور جسم کو مضبوط کر سکتے ہیں۔یہ ورزش آپ کو نہ صرف کولیسٹرول کی کثرت اور ہائی بلڈ پریشر سے نجات دلا سکتی ہے،بلکہ ابتدائی چار ہفتوں میں تین مرتبہ پیڈل چلانے سے بھی فائدہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ابتداء میں 12 سے 15 منٹ تک کی ورزش کافی ثابت ہوتی ہے۔آپ چاہیں تو صبح و شام 10 سے 15 منٹ تک یہ ورزش کر سکتے ہیں۔
اس طرح آپ کے پیر رفتہ رفتہ زیادہ دیر تک ورزش کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔
ہوا کی ضرورت
کھلی ہوا میں سائیکل چلانے سے خوب صاف ہوا پھیپھڑوں میں جذب ہوتی ہے اور جسم کو بھی ہوا کے لگنے سے گرمی کا احساس کم ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ قلب کی رفتار میں بھی بہت زیادہ اضافہ نہیں ہوتا،اس لئے آپ جس کمرے میں ورزش کریں،اس کی کھڑکیاں کھلی رکھیں۔
بہت زیادہ موٹے اور بھاری کپڑے نہ پہنیں،تاکہ جسم کو تازہ ہوا خوب لگے۔شروع میں 5سے7 منٹ تک پیڈل آہستہ آہستہ گھمائیں، تاکہ آپ کا جسم گرم ہو جائے۔اسی طرح ورزش کے اختتام پر بھی پیڈل گھمانے کا سلسلہ دھیرے دھیرے کچھ دیر جاری رکھیں، تاکہ دوران خون اور سانس معمول پر آجائے۔
آرام دہ سیٹ
سائیکل کی گدی(Seat) کا آرام دہ ہونا بہت ضروری ہے۔
ضرورت ہو تو اس پر کشن وغیرہ رکھ کر آرام سے بیٹھے۔گدی کی بلندی بھی آپ کے پیروں کے لحاظ سے ہونی چاہیے،یعنی نہ بہت اونچی ہو اور نہ بہت نیچی۔اپنے پنجے کے بیج کا حصہ پیڈل پر رکھیے۔پنجے کا سرا اس پر نہیں ہونا چاہیے۔اسی طرح ہینڈل ایسا ہونا چاہیے کہ آپ اس پر جھکے رہیں۔بہت زیادہ نہ جھکیں،ورنہ آپ کی کمر دکھنے لگے گی۔اکثر لوگ تھک کر سامنے زیادہ جھک جاتے ہیں،یہ انداز مناسب نہیں ہے۔
ہینڈل کو بہت زیادہ سختی سے بھی نہ پکڑیے،اس طرح ہاتھ سن ہو سکتے ہیں۔ آپ مناسب سمجھیں تو دستانے پہن لیں۔کھلی جگہ میں سائیکل چلانے کے مقابلے میں ایک جگہ پیڈل گھمانے سے اکتاہٹ ہونے لگتی ہے ،اس لئے اس سے بچنے کے لئے آپ کو زیادہ کاوش کرنا پڑے گی،جو آپ کے دماغ کو تھکا سکتی ہے۔اس سے چھٹکارے کے لئے ذیل میں دی گئی ہدایات پر عمل کیجیے:
پیڈل چلانے کے دوران آدھے منٹ تک بہت تیز پیڈل چلائیں اور پھر معمول کی رفتار پر آجائیں،اس سے اکتاہٹ ختم ہو جائے گی اور حرارے بھی زیادہ جلیں گے۔
ہو سکے تو اپنی سائیکل کے ہینڈل کے وسط میں ایک ایسا گتا یا اسٹینڈ لگائیں،جس پر آپ کوئی کتاب یا رسالہ رکھ کر پیڈل گھمانے کے دوران پڑھ سکیں۔
اسٹینڈ پر موٹے الفاظ والی کتاب یا رسالہ لگانا چاہیے،تاکہ اسے جھکے بغیر آسانی سے پڑھا جا سکے۔
ایک صورت یہ بھی ہے کہ آپ ہیڈ فون لگا کر اپنی پسندیدہ نعت یا حمد سنیں۔اس طرح آپ اپنی ورزش کے وقت کا تعین بھی کر سکتے ہیں۔
سائیکل ایسی جگہ رکھیے،جہاں سے آپ بیرونی منظر دیکھ کر اپنا دل بہلا سکیں۔
ان تدابیر کے ذریعے آپ کھڑی سائیکل پر ورزش کرنے کے عمل کو خوش گوار بنا سکتے ہیں۔اس کی پابندی آپ کی بے کار سائیکل کو کارآمد و مفید بنا دے گی اور آپ کی صحت قابل رشک ہو جائے گی۔وزن گھٹے گا تو توانائی اور کارکردگی میں بھی نمایاں اضافہ ہو گا اور حرکت میں برکت کا مقولہ بھی درست ثابت ہو گا۔اس آسان و مفید ورزش کو آج سے ہی شروع کر دیجیے۔










































