والدین سے تحویل میں لی گئی بچی جس نے جرمنی اور انڈیا کے درمیان سفارتی تنازع کو جنم دیا

یہ بچی اس وقت انڈیا اور جرمنی کے درمیان سفارتی نتازع کا سبب بنی ہوئی ہے۔ ستمبر 2021 میں جب یہ بچی صرف سات ماہ کی تھی تو حکام نے اسے اس کے والدین سے چھین لیا اور ان پر جنسی تشدد کا الزام لگایا۔
اسے انڈین کھانے پسند ہیں اور والدین کی طرف سے دکھائی گئی ویڈیوز میں وہ ان کے ساتھ خوش نظر آ رہی ہے۔

اس کی والدہ بتاتی ہیں کہ ان کی ڈھائی سالہ بیٹی ابھی جرمن شہر برلن کے قریب بچوں کے حفاظتی مرکز میں موجود ہے۔

یہ بچی اس وقت انڈیا اور جرمنی کے درمیان سفارتی نتازع کا سبب بنی ہوئی ہے۔ ستمبر 2021 میں جب یہ بچی صرف سات ماہ کی تھی تو حکام نے اسے اس کے والدین سے چھین لیا اور ان پر جنسی تشدد کا الزام لگایا۔

اس سال جون میں برلن کی ایک عدالت نے اس انڈین جوڑے کے ولدیت کے حقوق معطل کر دیے۔ بچی کی کسٹڈی ’یوگن امپت‘ کو دے دی گئی جو جرمنی میں بچوں کا فلاحی ادارہ ہے۔

والدین نے عدالت سے بچی کو واپس انڈیا بھیجنے کی درخواست دی جو مسترد کر دی گئی۔ اب والدین نے عدالتی کارروائی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اس کے خلاف اپیل دائر کی ہے۔

بچی کی والدہ دِیا (قانونی وجوہات کی وجہ سے ہم والدین کا اصلی نام استعمال نہیں کر رہے) اس وقت دلی میں ہیں اور بچی کی واپسی کے لیے مہم چلا رہی ہیں۔بی بی سی سے اس بارے میں بات کرتے ہوئے ان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

دیا کے خاوند امت کو 2018 میں برلن میں نوکری ملی اور وہ دونوں وہاں چلے گئے۔ ان کی بچی وہاں دو فروری 2021 میں پیدا ہوئی۔

عدالتی دستاویز کے مطابق بچی کے جنسی اعضا پر زخم کی وجہ سے تنازع ہوا۔ اُس وقت بچی سات ماہ کی تھی۔ اس زخم کا معائنہ کر کے ایک ڈاکٹر نے کہا کہ انھوں نے اس سے پہلے چھوٹی بچی کے اِن اعضا پر اس قدر شدید زخم نہیں دیکھا۔ انھوں نے تجویز دی کہ بچی کو فوی طور پر سرجری کی ضرورت تھی۔

بچوں کے تحفظ کے ادارے نے اس بچی کو اپنی تحویل میں لیتے ہوئے کہا کہ انھیں شک ہے کہ اس پر جنسی تشدد ہوا۔ بچی کے والدین اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔

جس ہسپتال میں بچی کا علاج ہو رہا تھا، اس نے بعد میں کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ ڈاکٹرز نے کہا اس سے متعلق ’کوئی ثبوت نہیں‘ جس کی بنا پر یہ کہا جاسکے کہ جنسی تشدد ہوا۔ پولیس نے بھی اس کے بعد اپنی کارروائی ختم کر دی۔
والدین کا کہنا ہے کہ زخم ناگہانی تھا۔ انڈیا اور امریکہ کے دو غیر جانبدار ڈاکٹرز، جنھوں نے بچی کی میڈیکل تفصیلات پڑھیں، نے بھی اس بات سے اتفاق کیا۔

عدالت میں جمع ہونے والی ان کی رپورٹ میں لکھا گیا کہ ’بہت زیادہ امکان ہیں کہ یہ زخم کسی حادثے کے نتیجے میں آیا ہو۔ یہ ناممکن ہے کہ والدین نے متعدد بار جان بوجھ کر اسے زخم دیے ہوں اور پھر اسے جلدی سے ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے ہوں۔‘

لیکن چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹیز نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں بچی اپنے گھر میں محفوظ نہیں ہوگی اور عدالت نے ان کی اس دلیل سے اتفاق کیا۔
بچی کی والدہ اس وقت دلی میں ہیں تاکہ بچی کو انڈیا واپس لانے کے لیے حمایت حاصل کر سکیں
بچی تقریباً دو سال سے فوسٹر کیئر میں ہے اور والدین کا کہنا ہے انھیں محدود رابطے کی اجازت دی گئی ہے۔ مگر سوشل ورکرز نے والدین کو ’پیار اور خیال رکھنے والے‘ والدین کہا۔

عدالت کی طرف سے تعینات کیے گئے ماہر نفسیات نے بھی یہ تجویز دی تھی کہ والدین میں سے ایک بچی کے ساتھ ایک پیرنٹ چائلڈ فیسیلیٹی میں رہیں۔

دیا کہتی ہیں کہ گذشتہ ہفتے یوگن امپت نے والدین کو آگاہ کیا کہ ’ان کے بچی سے ملنے کے تمام دن کینسل ہو گئے ہیں کیونکہ اسے چھوڑنے اور واپس لانے کے لیے کوئی نہیں۔‘

وہ الزام لگاتی ہیں کہ انھیں اپنی بیٹی کو ویڈیو کال کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔ ’ہمارے پاس کوئی معلومات نہیں کہ جب سے وہ فوسٹر کیئر سے خصوصی بچوں کے سینٹر میں گئی ہے، اس کا خیال کون رکھ رہا ہے۔ ہماری بچی کے گرد رازداری انتہائی عجیب ہے۔‘
دیا جرمن حکام پر نسل پرستی کا الزام لگاتی ہیں اور کہتی ہیں کہ غلط بیانی کر کے ان کی بچوں کو تحویل میں لے لیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ جرمن نہیں بول سکتیں اور انھیں ملنے والے مترجم ’ہندی بولتے تھے، گجراتی نہیں۔‘

ہم نے یوگن امپت سے رابطہ کیا ہے اور ان کے جواب کے منتظر ہیں۔

اس بچی کے کیس کو انڈیا اور جرمنی میں کافی توجہ ملی ہے۔ انڈیا اور جرمنی کے شہروں میں والدین کے حق میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

دلی میں دیا نے انڈین وزارت خارجہ کے عہدیداروں سے ملاقات کی۔ درجنوں ارکان نے جرمن سفیر فلپ ایکرمین کو خط رکھے ہیں کہ جن میں بچی کی انڈیا واپسی کا مطالبہ کیا گیا۔

ایک رکن پارلیمنٹ نے حکومت پر زور دیا کہ وہ بچی کو واپس لانے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔ ایک اور سیاست دان نے وزیر اعظم نریندر مودی سے کہا کہ وہ اس معاملے کو جرمن چانسلر اولف شولز کے سامنے اٹھائیں۔ جرمن چانسلر اگلے ماہ جی 20 سربراہی اجلاس کے لیے دلی کا دورہ کریں گے۔

دیا بھی اب وزیر اعظم سے مداخلت کی اپیل کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اب میری واحد امید مودی صاحب ہیں۔ اگر وہ مداخلت کرتے ہیں تو میری بیٹی واپس آسکتی ہے۔‘
اس بچی کے تنازع نے 2011 کے اسی طرح کے ایک کیس کی یاد تازہ کر دی کہ جب ناروے میں دو انڈین بچوں کو ان کے والدین سے لے لیا گیا تھا۔ آخرکار وہ ایک سال بعد انڈیا واپس آ گئے تھے۔

ناروے میں انڈین خاندان کی مدد کرنے والی سابق وکیل اور کارکن سورنیا آئر کا کہنا ہے کہ اس طرح کے معاملات غیر معمولی نہیں۔ ’یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔ مفروضہ یہ ہے کہ یہ ایک شاندار حل ہے اور اس پر مزید بحث کی ضرورت نہیں۔‘

سرحد پار خاندانی تنازعات میں یوگن امپت کے کردار کو یورپی پارلیمنٹ نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سنہ 2018 میں ایک تہلکہ خیز رپورٹ میں یورپی پارلیمنٹ نے اس تنظیم پر امتیازی سلوک، تارکین وطن کے بچوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اور والدین و بچوں دونوں کے حقوق کو نقصان پہنچاتے ہوئے انھیں ضبط کرنے کا الزام لگایا۔

مئی میں جاری ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں یورپی پارلیمنٹ نے کہا کہ ان کی کمیٹی برائے پٹیشنز کو اب بھی یوگن امپت کے بارے میں شکایات موصول ہوتی ہیں۔ ’یوتھ ویلفیئر دفاتر کے کردار اور اقدامات کو اکثر بہت دور رس دیکھا جاتا ہے۔۔۔ وہ غیر ملکی والدین کو جرمن والدین کے مقابلے میں پسماندہ محسوس کرتے ہیں۔‘
والدین کے حق میں انڈیا اور جرمنی کے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے
سورنیا آئر کہتی ہیں کہ اس طرح کے معاملات میں ایک بہتر حل یہ ہوگا کہ ریاست سماجی کارکنوں کو کہے کہخاندانوں کو اپنے بچوں کی دیکھ بھال میں مدد کریں۔

وہ کہتی ہیں اس بچی کے معاملے میں حکومت کی مداخلت ہی واحد حل ہے۔ ’بچی کی کوئی غلطی نہیں۔ اسے انڈیا واپس آنے دیں۔ وہ انڈین شہری ہے اور اسے یہاں رہنے کا پورا حق ہے۔‘

انڈین حکومت نے کہا ہے کہ اس کیس کو ’اعلیٰ ترجیح‘ دی جا رہی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے اس ماہ کے شروع میں کہا تھا کہ انھوں نے انڈیا کے تحفظات سے آگاہ کرنے کے لیے ’جرمن سفیر کو طلب‘ کیا ہے۔

ارندم باغچی نے ایک میڈیا بریفنگ میں کہا ’کم از کم ہم سمجھتے ہیں کہ اس بچی کے ثقافتی حقوق اور ایک انڈین شہری کے حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے بچی کی جلد از جلد انڈیا واپسی کا مطالبہ کیا ہے اور ہم اس معاملے پر جرمنی پر دباؤ ڈالتے رہیں گے۔‘

دلی میں جرمن سفارتخانے کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ لیکن جرمنی میں حکومتی ذرائع نے کہا کہ یہ مقدمہ عدالت میں ہے اور ان کے ہاتھ سے باہر ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ وہ اس کیس کا حل تلاش کرنے کے لیے انڈیا کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

انڈین حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے گجرات میں ایک خاندان کی نشاندہی کی ہےجن کو اس بچی کی دیکھ بھال کی ذمہ داری دی جا سکتی ہے۔

ریٹائرڈ سرکاری پیڈیاٹریشن اور دلی حکومت کی چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے سابق رکن ڈاکٹر کرن اگروال کا کہنا ہے کہ بچی کو اپنے والدین کے ساتھ ہونا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ’انڈیا میں بچوں کے تحفظ کے بہت مضبوط قوانین ہیں اور اگر جرمن عدالت اسے وطن واپس بھیج دیتی ہے، تو انڈیا میں اس کی دیکھ بھال کی جا سکتی ہے۔‘

دیا کہتی ہیں کہ ہر گزرتا دن ان کی پریشانی میں اضافہ کرتا ہے کہ وہ اپنے بچی کو ’تھوڑا تھوڑا کر کے کھو رہی ہیں۔‘

وہ پوچھتی ہیں ’وہ اپنی مادری زبان گجراتی نہیں سیکھ پا رہی۔ وہ صرف جرمن بولتی ہے، میں اس سے کیسے بات کروں گی؟‘

خاندان 90 لاکھ روپے ادا کرنے کی بھی کوشش کر رہا ہے کیونکہ انھیں بچی کی دیکھ بھال اور عدالتی اخراجات کی مد میں رقم ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ’ہم نے کراؤڈ فنڈنگ کے ذریعے پیسے جمع کیے اور پہلے ہی 50 لاکھ روپے ادا کر چکے ہیں۔

’ہم ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے ہمیں اخلاقی اور جذباتی طور پر توڑا، اب وہ ہمیں مالی طور پر بھی توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

Related Posts

’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید

’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید اداکار نے کہا کہ یہ معاملہ بھارت یا پاکستان کا نہیں بلکہ سینما کے خطرناک غلط…

امریکا نے پاکستان کے ایف 16 طیاروں کے لیے 68 کروڑ ڈالر کے اپ گریڈ پیکج کی منظوری دے دی

امریکا نے پاکستان کے ایف 16 طیاروں کے لیے 68 کروڑ ڈالر کے اپ گریڈ پیکج کی منظوری دے دی یہ فروخت آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ اور سالانہ مالی قوانین…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

یہ بھی پڑھئے

’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید

’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید

امریکا نے پاکستان کے ایف 16 طیاروں کے لیے 68 کروڑ ڈالر کے اپ گریڈ پیکج کی منظوری دے دی

امریکا نے پاکستان کے ایف 16 طیاروں کے لیے 68 کروڑ ڈالر کے اپ گریڈ پیکج کی منظوری دے دی

’قانون میرے فائدے کیلئے نہیں بنایا گیا تھا‘ مریم نواز کا پراپرٹی ایکٹ کی معطلی پر اظہار تشویش

’قانون میرے فائدے کیلئے نہیں بنایا گیا تھا‘ مریم نواز کا پراپرٹی ایکٹ کی معطلی پر اظہار تشویش

انٹرنیشنل فنانس کاپوریشن کا پاکستان میں پہلی مقامی کرنسی سرمایہ کاری کا اعلان

انٹرنیشنل فنانس کاپوریشن کا پاکستان میں پہلی مقامی کرنسی سرمایہ کاری کا اعلان

اپوزیشن کو پہلے بھی دعوت دی، اب بھی مذاکرات کیلئے تیار ہیں، وزیراعظم

اپوزیشن کو پہلے بھی دعوت دی، اب بھی مذاکرات کیلئے تیار ہیں، وزیراعظم

خیبرپختونخوا: کرک میں پولیس وین پر دہشتگردوں کا حملہ، پانچ پولیس اہلکارشہید

خیبرپختونخوا: کرک میں پولیس وین پر دہشتگردوں کا حملہ، پانچ پولیس اہلکارشہید

عارف حبیب گروپ نے پی آئی اے کو 135 ارب روپے میں خرید لیا

عارف حبیب گروپ نے پی آئی اے کو 135 ارب روپے میں خرید لیا

ٹک ٹاک کا پاکستان میں چھوٹے کاروبار کیلئے سیلف سروس ایڈورٹائزنگ پلیٹ فارم متعارف

ٹک ٹاک کا پاکستان میں چھوٹے کاروبار کیلئے سیلف سروس ایڈورٹائزنگ پلیٹ فارم متعارف

پاکستانی کوہ پیما ثمینہ بیگ نے نئی تاریخی کامیابی حاصل کرلی

پاکستانی کوہ پیما ثمینہ بیگ نے نئی تاریخی کامیابی حاصل کرلی

شوگر انڈسٹری کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے پالیسی ڈرافٹ تیار

شوگر انڈسٹری کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے پالیسی ڈرافٹ تیار

چناب کے بہاؤ میں اچانک تبدیلی پر پاکستان کا اظہارِ تشویش، بھارت سے وضاحت طلب

چناب کے بہاؤ میں اچانک تبدیلی پر پاکستان کا اظہارِ تشویش، بھارت سے وضاحت طلب

’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید

’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید

بھارت میں مسلم خاتون کے حجاب کھینچنے کے واقعے کی شکایت درج

بھارت میں مسلم خاتون کے حجاب کھینچنے کے واقعے کی شکایت درج

اسلام آباد ہائیکورٹ کا جسٹس جہانگیری کو عہدے سے ہٹانے کا حکم، ڈگری تقرری کے وقت ’غیر معتبر‘ قرار

اسلام آباد ہائیکورٹ کا جسٹس جہانگیری کو عہدے سے ہٹانے کا حکم، ڈگری تقرری کے وقت ’غیر معتبر‘ قرار

اسلام آباد ہائیکورٹ: بلدیاتی الیکشن اور سی ڈی اے کو تحلیل کرنے سے متعلق سنگل بینچ کا فیصلہ معطل

اسلام آباد ہائیکورٹ: بلدیاتی الیکشن اور سی ڈی اے کو تحلیل کرنے سے متعلق سنگل بینچ کا فیصلہ معطل

چلاس میں شاہراہ قراقرم پر لینڈسلائیڈنگ، 6 گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں، 2 دریا میں جاگریں

چلاس میں شاہراہ قراقرم پر لینڈسلائیڈنگ، 6 گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں، 2 دریا میں جاگریں

شدت پسند گروہ افغانستان اور اس سے باہر کی دنیا کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں، وزیراعظم

شدت پسند گروہ افغانستان اور اس سے باہر کی دنیا کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں، وزیراعظم

اسلام آباد کچہری کے باہر خود کش بمبار کے حملے میں 12 افراد شہید، 22 زخمی

اسلام آباد کچہری کے باہر خود کش بمبار کے حملے میں 12 افراد شہید، 22 زخمی

پاک فوج نے تیسری انٹر سروسز کامبیٹ شوٹنگ چیمپئن شپ 2025 جیت لی

پاک فوج نے تیسری انٹر سروسز کامبیٹ شوٹنگ چیمپئن شپ 2025 جیت لی

مصنوعی ذہانت کے انقلاب کو توانائی کے بحران، عمارتوں کی جلد تکمیل کا مسئلہ درپیش

مصنوعی ذہانت کے انقلاب کو توانائی کے بحران، عمارتوں کی جلد تکمیل کا مسئلہ درپیش

نواز شریف کی حکومت بحال ہونے کی خوشی میں یونیورسٹی مٹھائی لے کر گیا تھا، نورالحسن

نواز شریف کی حکومت بحال ہونے کی خوشی میں یونیورسٹی مٹھائی لے کر گیا تھا، نورالحسن

اسلام آباد کچہری کے باہر پارکنگ میں کھڑی گاڑی میں دھماکا، 3 افراد زخمی

اسلام آباد کچہری کے باہر پارکنگ میں کھڑی گاڑی میں دھماکا، 3 افراد زخمی

شادی کے وقت کہا گیا تھا زیادہ عرصہ شادی نہیں چلے گی، یاسرہ رضوی

شادی کے وقت کہا گیا تھا زیادہ عرصہ شادی نہیں چلے گی، یاسرہ رضوی

ڈونلڈ ٹرمپ کا احمد الشراع سے تاریخی ملاقات کے بعد شام کی ہرممکن مدد کے عزم کا اظہار

ڈونلڈ ٹرمپ کا احمد الشراع سے تاریخی ملاقات کے بعد شام کی ہرممکن مدد کے عزم کا اظہار

’بالاکوٹ حملے کے بعد قومی سلامتی کمیٹی نے جنرل باجوہ کے منصوبے کی حمایت کی تھی

’بالاکوٹ حملے کے بعد قومی سلامتی کمیٹی نے جنرل باجوہ کے منصوبے کی حمایت کی تھی

امریکی سینیٹ سے حکومت کے شٹ ڈاؤن کو ختم کرنے کیلئے فنڈنگ بل منظور

امریکی سینیٹ سے حکومت کے شٹ ڈاؤن کو ختم کرنے کیلئے فنڈنگ بل منظور

عمران خان اور وزیراعظم کے استثنیٰ کی شق کے درمیان کوئی ’تعلق‘ نہیں، رانا ثنااللہ

عمران خان اور وزیراعظم کے استثنیٰ کی شق کے درمیان کوئی ’تعلق‘ نہیں، رانا ثنااللہ

بھاری جرمانوں پر عوامی ردعمل کے بعد حکومت سندھ کا ای چالان کی رقم میں کمی پر غور

بھاری جرمانوں پر عوامی ردعمل کے بعد حکومت سندھ کا ای چالان کی رقم میں کمی پر غور

کار دھماکے کی تحقیقات انسداد دہشتگردی قانون کے تحت کی جا رہی ہیں، دہلی پولیس

کار دھماکے کی تحقیقات انسداد دہشتگردی قانون کے تحت کی جا رہی ہیں، دہلی پولیس

شدت پسند گروہ افغانستان اور اس سے باہر کی دنیا کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں، وزیراعظم

شدت پسند گروہ افغانستان اور اس سے باہر کی دنیا کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں، وزیراعظم

27ویں آئینی ترمیم 2025 کا بل قومی اسمبلی میں پیش

27ویں آئینی ترمیم 2025 کا بل قومی اسمبلی میں پیش

کراچی: نجی ہسپتال میں پیدائش کے بعد ’بل کی عدم ادائیگی‘ پر نوزائیدہ بچہ فروخت، مقدمہ درج

کراچی: نجی ہسپتال میں پیدائش کے بعد ’بل کی عدم ادائیگی‘ پر نوزائیدہ بچہ فروخت، مقدمہ درج

کراچی: 2 روز قبل گرفتار کالعدم تنظیم کے ارکان دھماکا خیز مواد رکھنے کے مقدمے سے بری

کراچی: 2 روز قبل گرفتار کالعدم تنظیم کے ارکان دھماکا خیز مواد رکھنے کے مقدمے سے بری

کراچی: پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس کے دوسرے ایڈیشن کا آغاز

کراچی: پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس کے دوسرے ایڈیشن کا آغاز

وزیراعظم نے27ویں ترمیم کی منظوری کیلئے پیپلزپارٹی کی حمایت مانگی ہے، بلاول بھٹو

وزیراعظم نے27ویں ترمیم کی منظوری کیلئے پیپلزپارٹی کی حمایت مانگی ہے، بلاول بھٹو

ایران کا تباہ شدہ جوہری تنصیبات پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ تعمیر کرنے کا اعلان

ایران کا تباہ شدہ جوہری تنصیبات پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ تعمیر کرنے کا اعلان

کراچی: کنواری کالونی منگھوپیر روڈ سے فتنۃ الخوارج کے انتہائی مطلوب 3 دہشتگرد گرفتار

کراچی: کنواری کالونی منگھوپیر روڈ سے فتنۃ الخوارج کے انتہائی مطلوب 3 دہشتگرد گرفتار

نیویارک کا میئر کون ہوگا؟ ڈرامائی انتخاب سے ایک دن قبل زہران ممدانی کو برتری حاصل

نیویارک کا میئر کون ہوگا؟ ڈرامائی انتخاب سے ایک دن قبل زہران ممدانی کو برتری حاصل

راولپنڈی: غیر قانونی افغان شہریوں کو جائیداد کرائے پر دینے والے 18 افراد کے خلاف مقدمات درج

راولپنڈی: غیر قانونی افغان شہریوں کو جائیداد کرائے پر دینے والے 18 افراد کے خلاف مقدمات درج

نیدرلینڈ کا ساڑھے 3 ہزار سال قدیم مجسمہ مصر کو واپس کرنے کا اعلان

نیدرلینڈ کا ساڑھے 3 ہزار سال قدیم مجسمہ مصر کو واپس کرنے کا اعلان

پی ٹی آئی کی جانب سے پنجاب لوکل گورنمنٹ بل کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیے جانے کا امکان

پی ٹی آئی کی جانب سے پنجاب لوکل گورنمنٹ بل کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیے جانے کا امکان