نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما نہال ہاشمی نے انکشاف کیا کہ مولانا فضل الرحمان کا مارچ سیدھا مقبوضہ کشمیر کی جانب نکل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے تو اب ایسا لگتا ہے کہ مولانا فضل الرحمان سندھ سے آئیں یا پنجاب سے آئیں ہو سکتا ہے کہ یہ جو دھرنا اور مارچ ہے یہ سیدھا مقبوضہ کشمیر کی طرف نکل جائے۔
اور پاکستان سے لاکھوں لوگوں کا ایک ریلا جب مقبوضہ کشمیر میں گُھس جائے گا تو پھر کیا منظر ہو گا۔ آپ سوچیں کہ اس صورت میں خطے میں کیا منظر ہو گا کہ کشمیر کے اندر ایک عوامی انقلاب آجائے گا جس میں آزاد کشمیر کے ساتھ ساتھ پاکستان بھر سے لوگ شامل ہوں گے۔ نہال ہاشمی نے کہا کہ مجھے تو یہ بھی لگ رہا ہے کہ یہ بے مقصد ریلی اور دھرنا نہیں ہو گا بلکہ اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہو گا۔
یاد رہے کہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 27 اکتوبر کو آزادی مارچ کی کال دے رکھی ہے جس کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے مارچ کی تیاریوں کا بھی آغاز کر دیا ہے جس کے لیے کارکنوں اور عہدیداران کو اہم ذمہ داریاں بھی سونپ دی گئی ہیں۔ خواتین پر جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ میں شرکت کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
خواتین جے یو آئی (ف) کے آزادی مارچ اور دھرنے میں شریک نہیں ہوں گی۔ دوسری جانب وفاقی حکومت مولانا کے مارچ اور دھرنے کو روکنے کے لیے قانونی آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کو اس وقت آزادی مارچ کے لیے مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل ہے جبکہ مولانا فضل الرحمان کو دھرنے کے لیے مختلف جگہوں سے فنڈنگ ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔










































