اسلام آباد:اندرون ملک چلنے والی لگژی بسوںکے کرائے آسمان پر مگر فروسٹ ایڈبکس تک موجود نہیں ہوتی ،تیز روفتاری کی وجہ سے حادثات معمول بن گئے- شہریوں کاکہناہے کہ حادثہ کی صورت میں بس ڈرائیورودیگر عملہ مسافروں کوبے یارومددگارچھوڑکربھاگ جاتاہے ،لگژی بسوں میں فرسٹ ایڈ کٹ تک دستیاب نہیں ہوتی ہے،
حکومت روڈسیفٹی کے قوانین پر سختی سے عمل کروائے ۔گذشتہ روز لاہور سے اسلام آباد کے لیے نجی کمپنی فیصل موورز کی ایگزیکٹیو کلاس کے بس نمبر ایل ای ایس 7676موٹروے پر حادثے کا شکارہوئی ۔بس ڈرائیور لاپرواہی سے بس چلارہاتھا جب ڈرائیور نے ٹرک کواورٹیک کرنے کی کوشش کی تو بائیں سائیڈٹرک سے ٹکراگئی۔
جس کے بعد ڈائیور جائے حادثہ سے بھاگ گیااور زخمی مسافروں کوبے یارومددگار جائے حادثہ پر چھوڑ گیا۔حادثے میں دیگر مسافروں کی طرح اپنے دوبچوں کےساتھ سفر کرنے والے ناز یہ بی بی بھی زخمی ہوئے۔فرسٹ ایڈ بکس نہ ہونے کی وجہ سے زخمیوںکوطبی امداد نہ مل سکی جن کوبعد میں ایف ڈیلیواو کی ایمبولینس میں بھیرا ہسپتال منتقل کیاگیا۔
مسافر بسوں میں فرسٹ ایڈ بکس نہ رکھنا سیفٹی رولزاورروڈ سیفٹی کے قانون کی خلاف وارزی ہے۔شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ وہ روڈ سیفٹی کے قوانین پر سختی سے عمل کروائے اور جو کمپنیاں ان پر عمل نہیں کرتی ان پر سخت جرمانے کئے جائیں تاکہ سفر کے دوران اگر کوئی حادثہ ہوتوزخمیوں کوبرقت طبی امداد دی جاسکے۔










































