کیریبین میں امریکا کا مبینہ ’منشیات بردار کشتی‘ پر حملہ، 3 افراد ہلاک
امریکا کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کے مطابق امریکا نے کیریبین میں مبینہ طور پر منشیات اسمگل کرنے والی کشتی پر حملہ کردیا ہے جس میں 3 افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ حملہ بین الاقوامی پانیوں میں کیا گیا اور حالیہ ہفتوں میں اس نوعیت کا ایک اور واقعہ ہے۔
ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کے دعوے کے تحت کیریبین میں بحری جہاز تعینات کیے ہیں اور ایف-35 اسٹیلتھ جنگی طیارے پورٹو ریکو بھیجے ہیں، جو واشنگٹن کے بقول منشیات کی ترسیل روکنے کے لیے ایک وسیع فوجی کارروائی کا حصہ ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں کیریبین اور بحرالکاہل میں کشتیوں پر امریکی حملوں کی تعداد 15 سے زیادہ ہو چکی ہے، جن میں کم از کم 65 افراد مارے جا چکے ہیں، ان حملوں پر خطے کی کئی حکومتوں نے شدید تنقید کی ہے۔
پیٹ ہیگستھ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’یہ حملہ کیریبین میں ایک اور منشیات بردار کشتی پر کیا گیا‘۔
انہوں نے کہا کہ ’ہماری خفیہ معلومات کے مطابق یہ کشتی دیگر تمام کشتیوں کی طرح غیر قانونی منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث تھی، اس پر تین ’نارکو دہشت گرد سوار تھے، جو حملے میں ہلاک ہوگئے۔‘‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ ستمبر کے اوائل سے شروع ہونے والے یہ حملے دراصل ماورائے عدالت ہلاکتوں کے مترادف ہیں، چاہے ان کا ہدف مبینہ اسمگلر ہی کیوں نہ ہوں، کیونکہ امریکا نے تاحال کوئی ثبوت پیش نہیں کیا کہ ان کشتیوں کے مسافر واقعی منشیات اسمگل کر رہے تھے یا امریکا کے لیے کسی خطرے کا باعث تھے









































