سینیٹ میں پیکا ترمیمی بل 2025 منظور کرنے کی تحریک پیش، صحافیوں کا واک آؤٹ
شبلی فراز نے کہا کہ سینیٹ سے قانون منظور ہوا تو لگ کہیں گے، ان سب نے ملکر منظور کیا، حالاں کہ ایسا نہیں ہے
سینیٹ میں پیکا ترمیمی بل 2025 منظور کرنے کی تحریک پیش کر دی گئی، جس کے بعد صحافیوں نے احتجاجاً ایوان بالا سے واک آؤٹ کر دیا۔
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان کی زیرصدارت اجلاس شروع ہوا، تو رانا تنویر حسین نے پیکا ترمیمی بل کی منظوری کی تحریک پیش کی۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے کہا کہ ایک قانون بننے میں وقت لگتا ہے، وزیر قانون آتے ہیں، آج ایک قانون بنا ہے، اور وہ کہتے ہیں کہ بس کومہ وغیرہ کی درستگی کی ضرورت ہے، فوری طور پر اسے منظور کرلیں۔
شبلی فراز نے کہا کہ صحافی آج اپنے پیشہ ورانہ امور کے حوالے سے تحفظات پر احتجاج پر مجبور ہیں، کیا حکومت نے متعلقہ شراکت داروں سے مشورہ کیا ہے؟، یہ قانون برائے اصلاح نہیں، قانون برائے سزا ہے، اور ہم اس کے لیے استعمال نہیں ہوسکتے۔
انہوں نے کہا کہ اگر سینیٹ اس قانون کو منظور کرلیتا ہے تو لوگ کہیں گے، ان سب نے ملکر اسے منظور کیا ہے، حالاں کہ ایسا نہیں ہے، ہم نے اس بل کی مخالفت کی ہے، اس دوران ظہر کی اذان کی وجہ سے اجلاس کچھ دیر کے لیے ملتوی کر دیا گیا، جو کچھ دیر میں دوبارہ شروع ہوگا









































