لاہور: جب سے ‘سیاسی شعور’ کی اصطلاح زبان زد عام ہوئی ہے تب سے سیاسی عدم استحکام کا آغاز بھی اسی تناسب سے پروان چڑھا ہے، ملکی تاریخ کو زیادہ چھاننے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ کم وبیش ہر پاکستانی ہی اب سطحی طور پر اس تاریخ سے واقف ہے۔
ہم زیادہ دور نہیں جاتے، پاکستان میں جنرل مشرف کے مارشل لاء کے اختتام کے قریب جب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت کے درمیان میثاقِ جمہوریت طے پایا گیا جو ملکی جمہوری تاریخ کیلئے بظاہر ایک اہم پیش خیمہ تصور کیا گیا، تب جمہوری سوچ کے حامل فکر مند لوگوں کو یوں محسوس ہوا جیسے ملک کی دونوں بڑی جماعتوں نے ملک کی خاطر اپنی عداوتیں پسِ پشت ڈال دی ہیں اور ایک نئے جمہوری سفر کا باقاعدہ آغاز کرنے کی ٹھان لی ہے۔ پر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا گزشتہ پندرہ سالوں میں ہر بڑی پارٹی کے لیڈر کے اندر چھپا ڈکٹیٹر سامنے آتا گیا۔
مسلم لیگ ن کی قیادت پیپلز پارٹی کو وزارت عظمیٰ سے بے دخل کرنے کیلئے عدالتی دلدل میں کود پڑی، پھر کچھ ہی عرصے بعد پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ مسلم لیگ ن کے وزیراعظم کو چلتا کرنے کیلئے عدالتی اور “اکابرین” کے دروازوں کا متواتر طواف کرنے لگے، لیکن یہ سلسلہ یہیں نہ تھما اور جب تحریک انصاف کو ملکی باگ ڈور سنبھالی گئی تو باقی تمام پارٹیاں بھی جمہوری حکومت کو گرانے کی ہر ممکن کوششیں کرنے پر تل گئیں اور آخر کار ایک اور وزیر اعظم کرسی سے اتار پھینکا گیا۔
سیاسی پارٹیاں ان تمام ادوار میں ایک دوسرے کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مشغول رہیں اور پوری دلجمعی سے ایک دوسرے کا مکھو ٹھپتی رہیں، اس تمام وقت کے دوران جو حقیقت ساتھ ساتھ لوگوں پر عیاں ہوتی رہی وہ تھی سیاسی شعور سے وابستہ مستقل سیاسی عدم استحکام ۔ پاکستان میں بسنے والا ہر شخص اب اتنی آگہی ضرور رکھتا ہے کہ اس نظام نے ہمیشہ جوں کا توں ہی رہنا ہے اور ایک آدمی کیلئے یہاں ماحول کبھی بھی سازگار نہیں ہونا جب تک وہ مکمل طور پر اس نظام کا حصہ نہ بن جائے یا یہ نظام اپنی موت آپ نا مر جائے۔
یہی وجہ ہے کہ اب ہر شخص اس نظام کو خیرباد کہنے پر مجبور ہو چکا ہے، فضا میں اس قدر اندھیرا چھا چکا ہے کہ اجالا جیسے ایک خواب سا ہو، اربابِ اختیار اپنی روایات کے پابند ہیں انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ عام انسان یہاں کیسے جیے، ان کے لیے سب سے زیادہ ضروری ان کا اقتدار اور اس کی آڑ میں آ کر لوگوں کے حقوق کی نت نئے طریقوں سے مستقل پامالی۔
وہ کہتے ہیں نا مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہے، جیسے جیسے سیاسی شعور بڑھتا گیا ویسے ویسے سیاسی عدم استحکام بھی بڑھتا گیا۔
احد خان دنیا نیوز میں بطور صحافی خدمات انجام دے رہے ہیں اور “خاص فہم” کے نام سے اپنی تحاریر لکھتے ہیں۔









































