لندن: کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ کے قتل کے بعد خالصتان تحریک زور پکڑ گئی، سکھ رہنما گرپت ونت سنگھ پنوں نے بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا اعلان کر دیا۔
خالصتان تحریک کے سرکردہ رہنما ہردیپ سنگھ کے قتل میں بھارتی حکومت اور خفیہ ایجنسی کے ملوث ہونے پر سکھ برادری میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، آزاد خالصتان کی زور پکڑتی تحریک پر مودی سرکار بھی شدید دباؤ میں دکھائی دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سکھ رہنما کے قتل پر کینیڈا کا سخت اقدام، اعلیٰ ترین بھارتی سفارتکار ملک بدر
سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپت ونت سنگھ پنوں نے لندن میں دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہردیپ سنگھ نجر کا قتل بھارت سے سنبھالا نہیں جائے گا، قتل میں بھارتی حکومت اوراس کی خفیہ ایجنسی کے ملوث ہونے کے بعد بھارت اور سکھوں کے درمیان واضح لکیر کھنچ گئی۔
گرپت ونت سنگھ پنوں کا مزید کہنا تھا کہ ہردیپ سنگھ کے قتل کا بھارت سے بدلہ لیں گے، بھارت سکھوں کو دہشت گرد ثابت کرنا چاہتا ہے ہم دہشت گرد نہیں، خالصتان ریفرنڈم کی کامیابی پر بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہوگیا ہے، قلم ہمارا ہتھیار ہے، ہم بین الاقوامی قوانین کے مطابق چلیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سکھ رہنما کا قتل، بھارت نے بھی کینیڈین سفارتکار کو ملک بدر کرنے کا حکم دے دیا
سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپت ونت سنگھ پنوں نے کہا ہے کہ بھارتی پنجاب کے لوگ آزادی چاہتے ہیں، بھارت ٹوٹے گا اور پنجاب آزاد ہوکر خالصتان بنے گا، اب تک ہمارے ریفرنڈم میں بیرون ملک مقیم ایک ملین لوگ آزادی کیلئے ووٹ ڈال چکے ہیں۔








































