ہم کبھی بھی باقی دنیا سے کٹ سکتے ہیں٬ چار خواتین اور وہ سنسان جزیرہ جہاں نلکے میں پانی ہے نہ دنیا سے رابطے کے لیے انٹرنیٹ

حال ہی میں چار برطانوی خواتین اینٹارکٹکا کے ایک دور دراز مقام پر پہنچی ہیں جہاں ان کا کام یہاں آنے والے سیاحوں کی میزبانی کرنا اور پینگوئنز کی کم ہوتی ہوئی آبادی کی دیکھ بھال کرنا ہے۔

یہاں آج کل یہ چاروں خواتین باقی دنیا سے دور کرسمس بھی منا رہی ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ اس مقام پر قیام کے لیے انھوں نے کیا بندوبست کیا ہے۔

جب کلیئر اس جگہ پہنچیں جو اگلے پانچ ماہ تک ان کا مسکن ہوگی، تو انھیں یہ جگہ کئی میٹر بلند برف میں ڈھکی ہوئی ملی۔

’ہم نے بیلچے پکڑ کر دھڑا دھڑ برف ہٹانی شروع کر دی اور یوں سردی کا احساس قدرے کم ہوگیا۔‘

جزائر فاکلینڈ سے تقریباً 911 میل جنوب میں واقع ’پورٹ لوکروئے‘ نامی بندرگاہ کا نظام سنبھالنے کی غرض سے ٹیم منتخب کرنے کے لیے ایک مقابلہ ہوا تھا جس میں کلیئر بیلنٹائن اور ان کی تین ساتھی خواتین، مائری ہلٹن، لوسی برزون اور نیٹلی کوربٹ پر مشتمل چار رکنی ٹیم کو منتخب کیا گیا۔

اینٹارکٹکا میں واقع اس بیس کیمپ کی دیکھ بھال کے لیے یہ مقابلہ برطانیہ کے ’یو کے اینٹارکٹِک ہیریٹیج ٹرسٹ‘ کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا تھا جس میں ہزاروں لوگوں نے حصہ لیا تھا۔

یہ چھوٹی سی عمارت کبھی برطانوی فوجیوں کی چوکی اور ایک تحقیقی مرکز ہوا کرتی تھی، تاہم اب یہ عمارت ایک ڈاکخانے، عجائب گھر اور تحائف کی ایک دکان پر مشتمل ہے۔

جب بحر منجمد جنوبی یا سدرن اوشن میں موسم گرما ہوتا ہے تو یہاں سے چھوٹے بحری جہاز گزرتے ہیں اور ان دنوں میں یہاں پر مقیم برطانوی ٹیم ان جہازوں پر آنے والے سیاحوں کی دیکھ بھال کرنے کے ساتھ ساتھ اس جزیرے پر بسنے والے تقریباً ایک ہزار جِنٹو نسل کے پینگوئنز کا خیال بھی رکھتی ہے۔

جب میں برطانیہ سے سیٹلائیٹ فون کے ذریعے اس قدر مشکل حالات میں کام کرنے والی ان خواتین سے بات کر رہی تھی تو صاف سنائی نہیں دے رہا تھا، تاہم جنگلی حیات کی ماہر خواتین، کلیئر اور مائری نے مجھے اس جزیرے پر اپنے تجربات کے بارے میں بتایا۔

کلیئر کا کہنا تھا کہ ’ہم پہلے تو اس عمارت کے راستے میں پڑی ہوئی بے شمار برف کو کھود کھود کے راستے صاف کرتے رہے، شمسی توانائی کے پینلز پر پڑی ہوئی برف ہٹاتے رہے تاکہ توانائی بحال ہو، پھر ہم یہ یقنی بنانے کی کوشش کرتے رہے کہ آنے والے ہفتوں میں ہمیں کافی مقدار میں پانی اور گیس ملتی رہی اور ہم اس جزیرے پر محفوظ زندگی گزار سکیں۔‘

برف کے وزن سے عجائب گھر کی چھت کو نقصان پہنچ چکا تھا، جس کی مرمت کے لیے مہم کے آغاز میں ہی خواتین نے برطانیہ کی رائل نیوی کی ٹیم کو بلا لیا تھا۔ کلیئر بتاتی ہیں کہ انھیں وہ لمحہ اچھی طرح یاد ہے جب نیوی کی ٹیم مرمت کا کام کر کے روانہ ہوئی تو جزیرے پر ان چار خواتین کے علاوہ کوئی انسان نہیں بچا۔ ان کے گرد و نواح میں صرف پینگوئن تھے اور برف کے بڑے بڑے تودے جو سمندر میں خاموشی سے تیرتے ہوئے آگے جا رہے تھے۔

’وہ واقعی ایک زبردست لمحہ تھا۔‘

بطورِ پوسٹ ماسٹر کلیئر کا کام یہ ہے کہ یہاں آنے والے سیاحوں کے خطوط اور پوسٹ کارڈ دنیا بھر میں ان کے دوستوں عزیزوں کو پہنچائیں۔

’میں یہاں سے جو ڈاک بھیجتی ہوں اسے برطانیہ پہنچنے میں تقریباً چار ہفتے لگتے ہیں۔ مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہو رہی ہے کہ میں ایک ایسے دور دراز مقام پر ہوں جہاں سے اس ڈاک کے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔‘

جب کلیئر اور مائری سے میری بات ہوئی تو اس وقت تک یہ خواتین پورٹ لوکروئے پر کئی ہفتے گزار چکی تھیں اور ایک باقاعدہ شیڈول کی عادی بھی ہو چکی تھی۔ مائری نے مجھے بتایا کہ ’ہم صبح سات بجے جاگ جاتے ہیں، ناشتہ کرتے ہیں اور اس کے بعد بندرگاہ کی اس جگہ برف ہٹانے پہنچ جاتے ہیں جہاں بحری جہازوں سے مہمان اترتے ہیں۔

’ایک چھوٹا بحری جہاز صبح کے وقت آتا ہے۔ اس پر آنے والے مہمان یہاں میوزیم دیکھتے ہیں، تحائف وغیرہ خریدتے ہیں اور پینگوئنز کو دیکھتے ہیں۔ اس کے بعد ہم لوگ دن کا کھانا کھاتے ہیں تو سہہ پہر میں سیاحوں کا دوسرا گروپ آ جاتا ہے، جو شام تقریباً چھ بجے تک یہاں رکتا ہے۔ اس کے بعد ہم شام کا کھانا کھاتے ہیں، پینگوئنز پر نظر رکھتے ہیں اور اگر کوئی کام رہ گیا ہو تو اسے ختم کرتے ہیں۔‘

اینٹارکٹکا کو دیکھنے کے لیے آنے والے سیاحوں میں یہاں سب سے زیادہ مقبول مقام پورٹ لوکروئے ہی ہے جہاں سالانہ 18 ہزار کے لگھ بھگ لوگ آتے ہیں۔ یہاں آنے والے لوگوں کے ساتھ اس ٹیم کا رشتہ دو طرفہ ہے کیونکہ یہ ٹیم یہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں پر بہت انحصار کرتی ہے۔

مائری کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس نلکے کے پانی کی سہولت موجود نہیں ہے، ہم اپنے لیے پینے کا پانی ان بحری جہازوں سے ہی لیتے ہیں اور نہانے کے لیے بھی جہاز کے غسل خانے استعمال کرتے ہیں۔‘

کلیئر نے مائری کی بات آگے بڑھاتے ہوئے بتایا کہ ’ہم لوگ تازہ پھل فروٹ، سبزیاں اور ڈبل روٹی بھی جہاز والوں سے لیتے ہیں۔ جہاز کے عملے کے لوگ ہمارا بہت خیال رکھتے ہیں۔‘

چونکہ اس بندرگاہ پر انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں ہے اس لیے ٹیم کے لیے اپنے خاندان والوں سے رابطے اور باہر کی دنیا سے باخبر رہنے کا بڑا ذریعہ بحری جہازوں پر نصب وائی فائی کی سہولت ہے۔ اس کے علاوہ اگرچہ ٹیم نے ابتدائی طبی امداد کی بہت اچھی تربیت لے رکھی ہے تاہم اگر انھیں ڈاکٹر کو دکھانا پڑ جائے تو جہاز کے عملے یا سیاحوں میں انھیں کوئی ڈاکٹر بھی مل جاتا ہے۔

لیکن یہ اتنا آسان بھی نہیں جتنا سنائی دیتا ہے۔ ٹیم نے مجھے بتایا کہ اینٹارکٹکا کا موسم اتنا غیر یقینی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اچانک یہ لوگ کئی دنوں کے لیے باقی دنیا سے کٹ جائیں اور کوئی بھی بحری جہاز ان تک نہ پہنچ سکے۔

کلیئر کے بقول ’آپ کو کچھ پتا نہیں ہوتا کہ آنے والا دن کیسا ہو گا۔ آپ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ اگر طوفان آ گیا تو صبح بحری جہاز آئے گا بھی یا نہیں۔ اسی لیے آپ کو کسی بھی صورتِ حال کے لیے تیار ہونا چاہیے۔‘

ان تمام مسائل اور غیر یقینی حالات کے باوجود یہ چاروں خواتین کئی ہفتے گزر جانے کے بعد بھی اپنے اردگرد کے ماحول کے سحر میں مبتلا ہیں۔

کلیئر کہتی ہیں کہ ’ہر صبح جب اس عمارت کے کچھ حصوں پر پڑی برف پر چلتے ہیں، اپنے ارد گرد کے پہاڑوں اور بڑے بڑے برفانی تودوں پر نظر ڈالتے ہیں، تو یہ سب کچھ اس قدر خوبصورت دکھائی دیتا ہے کہ آپ کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔‘

میں نے خواتین سے پوچھا کہ انھیں کیسا محسوس ہوتا کہ اس جزیرے پر سینکڑوں پینگئونز کے درمیان وہ صرف چار انسان ہیں؟

مائری کا جواب تھا کہ پینگوئنز ’اتنا شور نہیں مچاتیں جتنا ہم سجھ رہے تھے۔ یہ پینگوئنز بڑے اچھے ہمسائے ہیں اور انھیں دیکھ کر بڑا مزا آتا ہے۔‘

جہاں تک ان پینگوئنز پر نظر رکھنے کا تعلق ہے تو ٹیم کا بڑا کام ان کے انڈوں کا حساب کتاب رکھنا ہے۔ قطب جنوبی کی یہ پینگوئنز عموماً سال کے انہی مہینوں میں انڈے دیتی ہیں۔ لیکن مائری کے مطابق ٹیم کو لگتا ہے کہ یہاں کے بدلتے ہوئے موسمی حالات کی وجہ سے پینگوئنز کی افزاش نسل کا موسم اب تاخیر سے آتا ہے۔

’آج کل بھی یہاں پر بہت زیادہ برف ہے اور یہاں خلیج میں بھی سمندری برف میں تیزی نہیں دکھائی دے رہی جو کہ ایک غیرمعمولی بات ہے۔ اگر پینگوئنز کے انڈوں پر برف پڑ جاتی ہے تو انڈے زندہ نہیں رہیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہاں موسم معمول سے زیادہ گرم رہتا ہے اور سردی بھی کم پڑتی ہے، تو یہ چیز ہمارے پینگوئنز کے لیے اچھی نہیں ثابت ہو گی۔‘

کلیئر اور مائری کا کہنا تھا کہ وہ جب سے یہاں آئی ہیں، اُنھیں زیادہ فرصت نہیں ملی ہے، لیکن وہ جزیرے پر گزرنے والے ہر لمحے کو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اسی لیے میں نے ان سے پوچھا کہ اس سال وہ اپنی انتہائی غیرمعمولی کرسمس کے لیے خاص طور پر کیا کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

مائری کا جواب تھا کہ ’ہم کرسمس والے دن چھٹی کریں گے۔ ہم میں سے کچھ خواتین پُڈِنگ بنائیں گی، قیمے کی ڈِش ( مِنس پائی) بنائیں گی اور اس کے ساتھ ادرک والے بسکٹ بھی۔ اس دن ہم بس آرام کریں گے، کرسمس ڈِنر کریں گے اور بہت سے ایسی چیزیں کریں گے جو ہم عموماً اپنےگھر پر کرتے ہیں، لیکن ہم یہ سب اس مرتبہ اپنے گھر پہ نہیں بلکہ یہاں اینٹارکٹیکا میں کریں گے۔‘

Related Posts

ٹک ٹاک کا پاکستان میں چھوٹے کاروبار کیلئے سیلف سروس ایڈورٹائزنگ پلیٹ فارم متعارف

ٹک ٹاک کا پاکستان میں چھوٹے کاروبار کیلئے سیلف سروس ایڈورٹائزنگ پلیٹ فارم متعارف کراچی: ٹک ٹاک نے پاکستان میں ایک نیا سیلف سروس ایڈورٹائزنگ حل متعارف کرایا ہے جس…

گوگل کا پاکستانی طلبہ کیلئے ایک سالہ مفت ’اے آئی پرو پلان‘ کا اعلان

گوگل کا پاکستانی طلبہ کیلئے ایک سالہ مفت ’اے آئی پرو پلان‘ کا اعلان دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے پاکستان میں 18 سال یا اس سے زائد عمر…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

یہ بھی پڑھئے

پاکستانی مسافروں کیلئے بڑی خبر، یو اے ای پہنچنے پر طویل امیگریشن کارروائی سے چھٹکارا

پاکستانی مسافروں کیلئے بڑی خبر، یو اے ای پہنچنے پر طویل امیگریشن کارروائی سے چھٹکارا

’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید

’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید

امریکا نے پاکستان کے ایف 16 طیاروں کے لیے 68 کروڑ ڈالر کے اپ گریڈ پیکج کی منظوری دے دی

امریکا نے پاکستان کے ایف 16 طیاروں کے لیے 68 کروڑ ڈالر کے اپ گریڈ پیکج کی منظوری دے دی

’قانون میرے فائدے کیلئے نہیں بنایا گیا تھا‘ مریم نواز کا پراپرٹی ایکٹ کی معطلی پر اظہار تشویش

’قانون میرے فائدے کیلئے نہیں بنایا گیا تھا‘ مریم نواز کا پراپرٹی ایکٹ کی معطلی پر اظہار تشویش

انٹرنیشنل فنانس کاپوریشن کا پاکستان میں پہلی مقامی کرنسی سرمایہ کاری کا اعلان

انٹرنیشنل فنانس کاپوریشن کا پاکستان میں پہلی مقامی کرنسی سرمایہ کاری کا اعلان

اپوزیشن کو پہلے بھی دعوت دی، اب بھی مذاکرات کیلئے تیار ہیں، وزیراعظم

اپوزیشن کو پہلے بھی دعوت دی، اب بھی مذاکرات کیلئے تیار ہیں، وزیراعظم

خیبرپختونخوا: کرک میں پولیس وین پر دہشتگردوں کا حملہ، پانچ پولیس اہلکارشہید

خیبرپختونخوا: کرک میں پولیس وین پر دہشتگردوں کا حملہ، پانچ پولیس اہلکارشہید

عارف حبیب گروپ نے پی آئی اے کو 135 ارب روپے میں خرید لیا

عارف حبیب گروپ نے پی آئی اے کو 135 ارب روپے میں خرید لیا

ٹک ٹاک کا پاکستان میں چھوٹے کاروبار کیلئے سیلف سروس ایڈورٹائزنگ پلیٹ فارم متعارف

ٹک ٹاک کا پاکستان میں چھوٹے کاروبار کیلئے سیلف سروس ایڈورٹائزنگ پلیٹ فارم متعارف

پاکستانی کوہ پیما ثمینہ بیگ نے نئی تاریخی کامیابی حاصل کرلی

پاکستانی کوہ پیما ثمینہ بیگ نے نئی تاریخی کامیابی حاصل کرلی

شوگر انڈسٹری کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے پالیسی ڈرافٹ تیار

شوگر انڈسٹری کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے پالیسی ڈرافٹ تیار

چناب کے بہاؤ میں اچانک تبدیلی پر پاکستان کا اظہارِ تشویش، بھارت سے وضاحت طلب

چناب کے بہاؤ میں اچانک تبدیلی پر پاکستان کا اظہارِ تشویش، بھارت سے وضاحت طلب

’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید

’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید

بھارت میں مسلم خاتون کے حجاب کھینچنے کے واقعے کی شکایت درج

بھارت میں مسلم خاتون کے حجاب کھینچنے کے واقعے کی شکایت درج

اسلام آباد ہائیکورٹ کا جسٹس جہانگیری کو عہدے سے ہٹانے کا حکم، ڈگری تقرری کے وقت ’غیر معتبر‘ قرار

اسلام آباد ہائیکورٹ کا جسٹس جہانگیری کو عہدے سے ہٹانے کا حکم، ڈگری تقرری کے وقت ’غیر معتبر‘ قرار

اسلام آباد ہائیکورٹ: بلدیاتی الیکشن اور سی ڈی اے کو تحلیل کرنے سے متعلق سنگل بینچ کا فیصلہ معطل

اسلام آباد ہائیکورٹ: بلدیاتی الیکشن اور سی ڈی اے کو تحلیل کرنے سے متعلق سنگل بینچ کا فیصلہ معطل

چلاس میں شاہراہ قراقرم پر لینڈسلائیڈنگ، 6 گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں، 2 دریا میں جاگریں

چلاس میں شاہراہ قراقرم پر لینڈسلائیڈنگ، 6 گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں، 2 دریا میں جاگریں

شدت پسند گروہ افغانستان اور اس سے باہر کی دنیا کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں، وزیراعظم

شدت پسند گروہ افغانستان اور اس سے باہر کی دنیا کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں، وزیراعظم

اسلام آباد کچہری کے باہر خود کش بمبار کے حملے میں 12 افراد شہید، 22 زخمی

اسلام آباد کچہری کے باہر خود کش بمبار کے حملے میں 12 افراد شہید، 22 زخمی

پاک فوج نے تیسری انٹر سروسز کامبیٹ شوٹنگ چیمپئن شپ 2025 جیت لی

پاک فوج نے تیسری انٹر سروسز کامبیٹ شوٹنگ چیمپئن شپ 2025 جیت لی

مصنوعی ذہانت کے انقلاب کو توانائی کے بحران، عمارتوں کی جلد تکمیل کا مسئلہ درپیش

مصنوعی ذہانت کے انقلاب کو توانائی کے بحران، عمارتوں کی جلد تکمیل کا مسئلہ درپیش

نواز شریف کی حکومت بحال ہونے کی خوشی میں یونیورسٹی مٹھائی لے کر گیا تھا، نورالحسن

نواز شریف کی حکومت بحال ہونے کی خوشی میں یونیورسٹی مٹھائی لے کر گیا تھا، نورالحسن

اسلام آباد کچہری کے باہر پارکنگ میں کھڑی گاڑی میں دھماکا، 3 افراد زخمی

اسلام آباد کچہری کے باہر پارکنگ میں کھڑی گاڑی میں دھماکا، 3 افراد زخمی

شادی کے وقت کہا گیا تھا زیادہ عرصہ شادی نہیں چلے گی، یاسرہ رضوی

شادی کے وقت کہا گیا تھا زیادہ عرصہ شادی نہیں چلے گی، یاسرہ رضوی

ڈونلڈ ٹرمپ کا احمد الشراع سے تاریخی ملاقات کے بعد شام کی ہرممکن مدد کے عزم کا اظہار

ڈونلڈ ٹرمپ کا احمد الشراع سے تاریخی ملاقات کے بعد شام کی ہرممکن مدد کے عزم کا اظہار

’بالاکوٹ حملے کے بعد قومی سلامتی کمیٹی نے جنرل باجوہ کے منصوبے کی حمایت کی تھی

’بالاکوٹ حملے کے بعد قومی سلامتی کمیٹی نے جنرل باجوہ کے منصوبے کی حمایت کی تھی

امریکی سینیٹ سے حکومت کے شٹ ڈاؤن کو ختم کرنے کیلئے فنڈنگ بل منظور

امریکی سینیٹ سے حکومت کے شٹ ڈاؤن کو ختم کرنے کیلئے فنڈنگ بل منظور

عمران خان اور وزیراعظم کے استثنیٰ کی شق کے درمیان کوئی ’تعلق‘ نہیں، رانا ثنااللہ

عمران خان اور وزیراعظم کے استثنیٰ کی شق کے درمیان کوئی ’تعلق‘ نہیں، رانا ثنااللہ

بھاری جرمانوں پر عوامی ردعمل کے بعد حکومت سندھ کا ای چالان کی رقم میں کمی پر غور

بھاری جرمانوں پر عوامی ردعمل کے بعد حکومت سندھ کا ای چالان کی رقم میں کمی پر غور

کار دھماکے کی تحقیقات انسداد دہشتگردی قانون کے تحت کی جا رہی ہیں، دہلی پولیس

کار دھماکے کی تحقیقات انسداد دہشتگردی قانون کے تحت کی جا رہی ہیں، دہلی پولیس

شدت پسند گروہ افغانستان اور اس سے باہر کی دنیا کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں، وزیراعظم

شدت پسند گروہ افغانستان اور اس سے باہر کی دنیا کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں، وزیراعظم

27ویں آئینی ترمیم 2025 کا بل قومی اسمبلی میں پیش

27ویں آئینی ترمیم 2025 کا بل قومی اسمبلی میں پیش

کراچی: نجی ہسپتال میں پیدائش کے بعد ’بل کی عدم ادائیگی‘ پر نوزائیدہ بچہ فروخت، مقدمہ درج

کراچی: نجی ہسپتال میں پیدائش کے بعد ’بل کی عدم ادائیگی‘ پر نوزائیدہ بچہ فروخت، مقدمہ درج

کراچی: 2 روز قبل گرفتار کالعدم تنظیم کے ارکان دھماکا خیز مواد رکھنے کے مقدمے سے بری

کراچی: 2 روز قبل گرفتار کالعدم تنظیم کے ارکان دھماکا خیز مواد رکھنے کے مقدمے سے بری

کراچی: پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس کے دوسرے ایڈیشن کا آغاز

کراچی: پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس کے دوسرے ایڈیشن کا آغاز

وزیراعظم نے27ویں ترمیم کی منظوری کیلئے پیپلزپارٹی کی حمایت مانگی ہے، بلاول بھٹو

وزیراعظم نے27ویں ترمیم کی منظوری کیلئے پیپلزپارٹی کی حمایت مانگی ہے، بلاول بھٹو

ایران کا تباہ شدہ جوہری تنصیبات پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ تعمیر کرنے کا اعلان

ایران کا تباہ شدہ جوہری تنصیبات پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ تعمیر کرنے کا اعلان

کراچی: کنواری کالونی منگھوپیر روڈ سے فتنۃ الخوارج کے انتہائی مطلوب 3 دہشتگرد گرفتار

کراچی: کنواری کالونی منگھوپیر روڈ سے فتنۃ الخوارج کے انتہائی مطلوب 3 دہشتگرد گرفتار

نیویارک کا میئر کون ہوگا؟ ڈرامائی انتخاب سے ایک دن قبل زہران ممدانی کو برتری حاصل

نیویارک کا میئر کون ہوگا؟ ڈرامائی انتخاب سے ایک دن قبل زہران ممدانی کو برتری حاصل

راولپنڈی: غیر قانونی افغان شہریوں کو جائیداد کرائے پر دینے والے 18 افراد کے خلاف مقدمات درج

راولپنڈی: غیر قانونی افغان شہریوں کو جائیداد کرائے پر دینے والے 18 افراد کے خلاف مقدمات درج

نیدرلینڈ کا ساڑھے 3 ہزار سال قدیم مجسمہ مصر کو واپس کرنے کا اعلان

نیدرلینڈ کا ساڑھے 3 ہزار سال قدیم مجسمہ مصر کو واپس کرنے کا اعلان