نور مقدم کے قاتل کا موبائل فون برآمد، مزید چونکا دینے والے انکشافات سامنے آگئے
نور مقدم کے قاتل ظاہر جعفر کے موبائل فون سے خواتین پر تشدد کے متعدد ویڈیوز برآمد کرلی گئیں ، پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم ماضی میں بھی خواتین پر تشدد میں ملوث رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں نور مقدم قتل میں مزید چونکا دینے والے انکشاف سامنے آیا ، پولیس نے ملزم ظاہر جعفر کے موبائل فون سے خواتین پر تشدد کے متعدد ویڈیوز برآمد کرلیں۔
پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ ملزم کے موبائل فون کا ڈیٹا برآمد کرلیا ، جس سے اہم شواہد ہاتھ آئے ہیں ڈیٹا سے پتہ چلا ہے کہ ملزم ماضی میں بھی خواتین پر تشدد میں ملوث رہا ہے۔اسلام آباد کی پولیس نے موبائل فون فرانزک یونٹ کو بھیج دیا ہے۔
گذشتہ روز سفارتکار کی بیٹی نور مقدم کو قتل کرنے کی محرکات بتاتے ہوئے ملزم نے کہا تھا نور میرے ساتھ بےوفائی کر رہی تھی جس کا مجھے پتہ چل گیا تھا اور بےوفائی پر نور مقدم کو قتل کیا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ ملزم کی والدہ اور سیکیورٹی گارڈز نے 3 گھنٹے تک واقعہ چھپایا اگر ملزم کی والدہ یا گارڈز وقت پر اطلاع دیتے تو نور کی جان بچائی جاسکتی تھی، نورمقدم ساڑھے 4بجے بالکنی سے بھاگ کر گارڈ کے پاس آئی اور خود کو سیکیورٹی گارڈ کے کیبن میں بند کر لیا، ملزم ظاہرجعفر پیچھے آیا اور کیبن سے نور کو باہر نکالا۔
گلی میں موجود گارڈ یہ سب کچھ دیکھتے رہے لیکن کسی بھی گارڈ نے ظاہرجعفر کو تشدد کرنے سے نہیں روکا، گلی میں اوربھی لوگ موجود تھےجنہوں نے نور کو گھسیٹتے دیکھا، ملزم نے نور مقدم پر 3 گھنٹے تک تشدد کیا










































