اسلام آباد: پاکستان نے مذہبی عدم برداشت سے متعلق امریکی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں رہائش پذیر تمام مذاہب کے افراد باہمی اتحاد و اتفاق سے رہتے ہیں جنہیں مکمل آئینی تحفظ حاصل ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ مذہبی عدم برداشت سے متعلق امریکی رپورٹ میں پاکستان کے بارے میں ’غیر مصدقہ اور جابندار موقف‘ اختیار کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت تمام ممالک اپنے لوگوں میں مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے پابند ہیں اور قومی اور عالمی قوائد کے مطابق ان کے حقوق کا تحفظ فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ڈاکٹر محمد فیصل نے رپورٹ میں امتیازی پہلو کی نشاندہی کی کہ بھارت میں اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف سوچی سمجھی پُرتشدد مہم کو نظر انداز کیا گیا جبکہ رپورٹ مقبوضہ جموں و کشمیر میں تسلط اور غیر ملکی قبضے کے بارے میں بھی خاموش ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان مذہب، ثقافت اور متنوع معاشرے پر مشمتل کثیر الجہت ملک ہے، جہاں امریکا سمیت دیگر ممالک کے ساتھ مل کر مذہبی آزادی کے مسئلہ پر مشترکہ اور بہتر آگاہی فراہم کی گئی جبکہ دنیا بھر میں مذہبی آزادی کا معاملہ شدید دباؤ کا شکار ہے۔ان کا امریکی رپورٹ کے بارے میں کہنا تھا کہ پاکستان اصولی طورپر امریکی رپورٹ کو تسلیم نہیں کرتا جس میں آزاد ریاست کے داخلی امور پر بات کی گئی ہو۔واضح رہے کہ بھارت نے بھی گزشتہ ہفتے جاری ہونے والی بین الاقوامی مذہبی آزادی سے متعلق امریکی رپورٹ مسترد کردی تھی۔امریکی رپورٹ میں تصدیق کی گئی تھی کہ بھارت میں انتہاپسند ہندوؤں نے مسلمان اور ہندوؤں کی نچلی ذات ‘دلت’ کو دھمکیاں دیں، ہراساں کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ 2014 میں نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد میسح برادری کے پیروکاروں کو بھی تبدیلی مذہب کے لیے زور دیا گیا۔اس سے قبل ہیومن رائٹس واچ کی ساؤتھ ایشیا ڈائریکٹر میناکشی گنگولی نے کہا تھا کہ بھارت میں مئی 2015 سے لے کر گذشتہ برس دسمبر تک ایسے حملوں میں کم از کم 44 افراد کو قتل کیا جاچکا ہے۔









































