کرم ایجنسی میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن مکمل کرلیا گیا، آپریشن کے دوران بڑی تعداد میں غیر قانونی اسلحہ برآمد کیا گیا، امدادی سامان کے قافلے کی آج پارا چنار روانگی کا امکان ہے۔
لوئر کرم کے علاقے بگن میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن کی تکمیل کے حوالے سے سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے دوران قبائلی مشران اور عوام نے بھرپور تعاون کیا، آپریشن کی کامیاب تکمیل کے دوران بھاری تعداد میں اسلحہ ملا ہے، جسے سرکاری تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ بگن میں 19 سے 21 جنوری تک ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مل کر سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن کیا، ضرورت پڑنے پر آئندہ بھی امن معاہدے کے مطابق شرپسندوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب بگن میں سرچ آپریشن مکمل ہونے کے بعد حکام کی جانب سے پارا چنار کے لیے امدادی سامان کے قافلے کی آج روانگی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
پس منظر
واضح رہے کہ 2024 کے آخری مہینوں میں ضلع کرم ایجنسی کے علاقے پاراچنار میں مسافر بس پر فائرنگ سے 44 افراد جاں بحق ہوگئے تھے، جس کے بعد ضلع کے مختلف علاقوں میں مسلح قبائلی تصادم اور فائرنگ کے نتیجے میں مزید درجنوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
متحارب فریقین کی جانب سے راستوں کی بندش اور احتجاج کی وجہ سے کرم ایجنسی میں کھانے پینے کی اشیا اور ادویات کی قلت پیدا ہوگئی تھی، جس کے بعد وفاقی کابینہ کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہنگامی طور پر امدادی سامان پاراچنار بھیجا تھا۔
وفاقی و صوبائی حکومتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی کوششوں سے فریقین ایک امن معاہدے پر متفقق ہوگئے تھے، جس کے نتیجے میں امدادی سامان سے لدے ٹرکوں کا قافلہ پارا چنار روانہ ہوا تھا، تاہم بگن کے قریب اس قافلے پر حملہ کردیا گیا، جس کے نتیجے میں 2 سیکیورٹی اہلکار زخمی جبکہ 4 ڈرائیورز جاں بحق ہوگئے تھے۔
صوبائی حکومت نے اس واقعے کے بعد فوری اہم اجلاس بلایا اور کرم کے مخصوص علاقوں میں آپریشن شروع کر دیا تھا۔










































