غزہ منصوبہ: ’ٹرمپ چاہتے ہیں لوگ انہیں جنونی یا پاگل سمجھیں

غزہ منصوبہ: ’ٹرمپ چاہتے ہیں لوگ انہیں جنونی یا پاگل سمجھیں‘

ڈونلڈ ٹرمپ کا ’غزہ منصوبہ‘ اتنا ہی خالصتاً امریکی معلوم ہوتا ہے جتنا ایپل پائی سوئٹ ڈش۔ اس منصوبے میں پہلے مقامی آبادی کے بڑے حصے کو قتل کرنا اور پھر اپنے منافع کے لیے ان کی زمین کو ہتھیانا شامل ہے۔ سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی معاونت اور حوصلہ افزائی سے جاری تباہی کا عمل اب ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت میں منطقی انجام کو پہنچ رہا ہے۔

یہ ثابت کرتا ہے (اگر ہمیں مزید ثبوتوں کی ضرورت ہے تو) کہ جب اسرائیل کی بات آتی ہے تو امریکا کی دو جماعتیں ڈیموکریٹک اور ری پبلکن، نہ صرف ایک صفحے پر بلکہ وہ گویا ایک پیراگراف، ایک جملے، ایک لفظ حتیٰ کہ ایک فل اسٹاپ پر بھی ساتھ ساتھ ہیں۔

فطری طور پر ٹرمپ کے منصوبے کی وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی۔ ذیلی اسکینڈینیویائی ملک جرمنی جو اسرائیلی جنگ جرائم کا کٹر حمایتی رہا ہے، دلچسپ طور پر اس بار اس نے بھی ’بس بہت ہوچکا‘ کی صدا بلند کی اور کہا کہ غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم فلسطینیوں کی زمین ہیں لیکن وہ غزہ کی تعمیر نو میں ’اپنا حصہ‘ ڈالیں گے۔ اور ہاں، انہیں یہ بھی احساس ہوگیا کہ اس طرح کا کوئی اقدام ’بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی‘ ہوگا۔

یقیناً جرمنی کے مؤقف میں تبدیلی کی وجہ یہ نہیں کہ وہ اخلاقی طور پر بیدار ہوچکے ہیں بلکہ اس کا ٹرمپ کے لیے یورپی دشمنی سے زیادہ تعلق ہے جبکہ اسے یہ ڈر بھی ہے کہ سفید فام یورپی ممالک فلسطینی پناہ گزینوں سے بھر جائیں گے۔

عرب ممالک نے بھی مناسب انداز میں صورت حال سے متعلق آوازیں بلند کیں۔ بہ ظاہر اردن نے اپنے میڈیا آؤٹ لیٹس پر ارادے ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر فلسطینیوں کو ان کی زمین سے زبردستی بے دخل کیا گیا تو اسرائیل کے ساتھ جنگ چھڑ سکتی ہے۔ گزشتہ 17 ماہ میں ان کے کردار کو دیکھا جائے تو اردن کے اس بیان کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔ تاہم اس بیان سے یہ اشارہ ضرور ملتا ہے کہ عمان موجودہ حالات میں کتنا کمزور محسوس کررہا ہے جبکہ حکومت عوام کے غم و غصے کے حوالے سے خوف کا شکار ہے۔

مصر کے لیے بھی یہی کہا جاسکتا ہے جو اسرائیل کی پشت پناہی کرتا ہے اور غزہ کے پناہ گزینوں سے رقم بٹورتا ہے۔ وہ بھی ممکنہ طور پر اس منصوبے کی مخالفت اسی وجہ سے کر رہا ہے کیونکہ بڑی تعداد میں فلسطینی مصر کا رخ کریں گے جوکہ ان کے نزدیک قومی سلامتی کا خطرہ ہوگا۔

امریکا اور اسرائیل کی نسل کشی کی حمایت کرنے والے بہت سے ممالک نے امریکی صدر کی تبدیلی کے بعد سے اپنے بیانیے بھی تبدیل کیے ہیں۔ وہ ممالک جو پہلے کہہ رہے تھے کہ ’اسرائیل صرف دفاع کی جنگ لڑ رہا ہے اور فلسطینیوں کو دانستہ طور پر نشانہ نہیں بنا رہا‘، اب کسی تردد کے بغیر کہتے ہیں کہ ’غزہ کی زمین ناقابلِ رہائش ہے‘۔

اسی طرح مغربی میڈیا نے بھی گیئرز تبدیلی کیے ہیں اور اب وہ فلسطین کی زمین پر شہریوں کے انٹرویوز لے رہے ہیں جبکہ بائیڈن اور ڈیموکریٹکس کی حکومت میں وہ یہ کرنے سے اجتناب کررہے تھے۔

ان ممالک اور میڈیا ہاؤسز نے جو چیز بڑی آسانی سے نظرانداز کردی وہ درحقیقت یہ تھی کہ غزہ کے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی بائیڈن انتظامیہ اور اس کے یورپی اتحادیوں نے 7 اکتوبر کے فوراً بعد ہی شروع کر دی تھی اور یہ فلسطینیوں کو صحرائے سینا میں بے دخل کرنے کے اسرائیلی منصوبے کے عین مطابق تھا جو حماس کے حملوں کے فوراً بعد میڈیا پر لیک ہوگیا تھا۔

تاہم جو بات پہلے نجی طور پر سفارتی ذرائع سے دبی آوازوں میں پہنچائی جاتی تھی، ٹرمپ نے بس وہی بات بلند و بالا کردی ہے جبکہ ایک پراپرٹی ٹائیکون ہونے کی حیثیت سے انہوں نے اس منصوبے میں اعلیٰ معیار کی ہاؤسنگ سوسائٹی کو بھی شامل کردیا ہے۔

لیکن صدر ٹرمپ کے اس ’منصوبے‘ پر عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹ عرب ممالک یا ہچکچاہٹ کا شکار مغربی ممالک نہیں بلکہ فلسطینی ہیں جو اپنی زمین نہیں چھوڑیں گے۔ اپنے تلخ تجربے کی بنیاد پر وہ واقف ہیں کہ ایک بار اگر انہوں نے اپنی زمین چھوڑ دی تو اسرائیل کی جانب سے انہیں دوبارہ واپسی کی اجازت کبھی بھی نہیں ملے گی۔

یقینی طور پر یہ پہلا موقع نہیں کہ جب اسرائیل نے غزہ کو خالی کرنے کی کوشش کی ہو۔ اس نے 1956ء، 1967ء اور 1970ء میں بھی ایسی کوششیں کیں جس کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہ آئے۔ بدنامِ زمانہ جنرل منصوبے کے خالق اسرائیلی جنرل گیورا آئیلانڈ نے جزیرہ نما سینا میں غیرفوجی فلسطینی ریاست کے وجود کا خیال پیش کیا جو 2000ء، 2004ء اور 2010ء میں اسرائیل کے زیرِ کنٹرول ہوگا۔

تاہم کوئی منصوبہ بھی کامیاب نہیں ہوپایا۔ ایسے میں یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ فلسطینی جنہوں نے اپنی آبادی کے خاتمے کی کوششوں کو ناکام بنایا، اب نقل مکانی کرنے پر رضامند ہوجائیں گے۔

سوال یہ ہے کہ آخر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ انتہائی منصوبہ کیوں تجویز کیا؟ اس کی ایک وضاحت تو یہ ہے کہ وہ بالکل پاگل ہیں، اور اسے خارج از الامکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ لیکن زیادہ امکان ہے کہ وہ خود چاہتے ہیں کہ لوگ ان کے بارے میں یہ رائے قائم کریں کہ وہ جنونی یا پاگل ہیں۔ یہ امریکی صدر رچرڈ نکسن کی صدرات کے دوران سامنے آنے والی ’میڈ مین تھیوری‘ سے مماثل روش ہے۔

رچرڈ نکسن نے دانستہ طور پر خود کو ’غیرمعقول اور غیرمتوقع طبعیت‘ کا ظاہر کیا تاکہ کمیونسٹ ممالک کے ساتھ بات چیت میں انہیں فوائد حاصل ہوں۔ وہ کھلے عام دھمکیاں دیتے تھے جبکہ ان کے سفارتکار حریف ممالک کے رہنماؤں کو کہتے تھے کہ صدر نکسن کچھ بھی کرسکتے ہیں، لہٰذا انہیں خوش رکھنے کی کوشش کی جائے۔

ٹرمپ کی فطرت بھی چھوٹے معاملات کے لیے بڑے اقدامات کرنے کی ہے اور وہ اپنے حامیوں کے لیے وہ ڈراما پیش کرتے ہیں جس کی انہیں خواہش ہے اور جس کے لیے انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیا۔ یہ میڈیا اور مخالفین کی توجہ بھٹکانے میں بھی مفید ثابت ہوا ہے۔ وہ بہت سے مشتعل بیانات دیتے ہیں جس سے میڈیا اور مخالفین کی توانائی ٹرمپ کے حیرت انگیز بیانات پر مرکوز ہوجاتی ہے جبکہ اس عمل میں وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حقیقی اقدامات کو نظر انداز کردیتے ہیں

  • Related Posts

    ’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید

    ’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید اداکار نے کہا کہ یہ معاملہ بھارت یا پاکستان کا نہیں بلکہ سینما کے خطرناک غلط…

    امریکا نے پاکستان کے ایف 16 طیاروں کے لیے 68 کروڑ ڈالر کے اپ گریڈ پیکج کی منظوری دے دی

    امریکا نے پاکستان کے ایف 16 طیاروں کے لیے 68 کروڑ ڈالر کے اپ گریڈ پیکج کی منظوری دے دی یہ فروخت آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ اور سالانہ مالی قوانین…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    یہ بھی پڑھئے

    ’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید

    ’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید

    امریکا نے پاکستان کے ایف 16 طیاروں کے لیے 68 کروڑ ڈالر کے اپ گریڈ پیکج کی منظوری دے دی

    امریکا نے پاکستان کے ایف 16 طیاروں کے لیے 68 کروڑ ڈالر کے اپ گریڈ پیکج کی منظوری دے دی

    ’قانون میرے فائدے کیلئے نہیں بنایا گیا تھا‘ مریم نواز کا پراپرٹی ایکٹ کی معطلی پر اظہار تشویش

    ’قانون میرے فائدے کیلئے نہیں بنایا گیا تھا‘ مریم نواز کا پراپرٹی ایکٹ کی معطلی پر اظہار تشویش

    انٹرنیشنل فنانس کاپوریشن کا پاکستان میں پہلی مقامی کرنسی سرمایہ کاری کا اعلان

    انٹرنیشنل فنانس کاپوریشن کا پاکستان میں پہلی مقامی کرنسی سرمایہ کاری کا اعلان

    اپوزیشن کو پہلے بھی دعوت دی، اب بھی مذاکرات کیلئے تیار ہیں، وزیراعظم

    اپوزیشن کو پہلے بھی دعوت دی، اب بھی مذاکرات کیلئے تیار ہیں، وزیراعظم

    خیبرپختونخوا: کرک میں پولیس وین پر دہشتگردوں کا حملہ، پانچ پولیس اہلکارشہید

    خیبرپختونخوا: کرک میں پولیس وین پر دہشتگردوں کا حملہ، پانچ پولیس اہلکارشہید

    عارف حبیب گروپ نے پی آئی اے کو 135 ارب روپے میں خرید لیا

    عارف حبیب گروپ نے پی آئی اے کو 135 ارب روپے میں خرید لیا

    ٹک ٹاک کا پاکستان میں چھوٹے کاروبار کیلئے سیلف سروس ایڈورٹائزنگ پلیٹ فارم متعارف

    ٹک ٹاک کا پاکستان میں چھوٹے کاروبار کیلئے سیلف سروس ایڈورٹائزنگ پلیٹ فارم متعارف

    پاکستانی کوہ پیما ثمینہ بیگ نے نئی تاریخی کامیابی حاصل کرلی

    پاکستانی کوہ پیما ثمینہ بیگ نے نئی تاریخی کامیابی حاصل کرلی

    شوگر انڈسٹری کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے پالیسی ڈرافٹ تیار

    شوگر انڈسٹری کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے پالیسی ڈرافٹ تیار

    چناب کے بہاؤ میں اچانک تبدیلی پر پاکستان کا اظہارِ تشویش، بھارت سے وضاحت طلب

    چناب کے بہاؤ میں اچانک تبدیلی پر پاکستان کا اظہارِ تشویش، بھارت سے وضاحت طلب

    ’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید

    ’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید

    بھارت میں مسلم خاتون کے حجاب کھینچنے کے واقعے کی شکایت درج

    بھارت میں مسلم خاتون کے حجاب کھینچنے کے واقعے کی شکایت درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا جسٹس جہانگیری کو عہدے سے ہٹانے کا حکم، ڈگری تقرری کے وقت ’غیر معتبر‘ قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا جسٹس جہانگیری کو عہدے سے ہٹانے کا حکم، ڈگری تقرری کے وقت ’غیر معتبر‘ قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بلدیاتی الیکشن اور سی ڈی اے کو تحلیل کرنے سے متعلق سنگل بینچ کا فیصلہ معطل

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بلدیاتی الیکشن اور سی ڈی اے کو تحلیل کرنے سے متعلق سنگل بینچ کا فیصلہ معطل

    چلاس میں شاہراہ قراقرم پر لینڈسلائیڈنگ، 6 گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں، 2 دریا میں جاگریں

    چلاس میں شاہراہ قراقرم پر لینڈسلائیڈنگ، 6 گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں، 2 دریا میں جاگریں

    شدت پسند گروہ افغانستان اور اس سے باہر کی دنیا کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں، وزیراعظم

    شدت پسند گروہ افغانستان اور اس سے باہر کی دنیا کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں، وزیراعظم

    اسلام آباد کچہری کے باہر خود کش بمبار کے حملے میں 12 افراد شہید، 22 زخمی

    اسلام آباد کچہری کے باہر خود کش بمبار کے حملے میں 12 افراد شہید، 22 زخمی

    پاک فوج نے تیسری انٹر سروسز کامبیٹ شوٹنگ چیمپئن شپ 2025 جیت لی

    پاک فوج نے تیسری انٹر سروسز کامبیٹ شوٹنگ چیمپئن شپ 2025 جیت لی

    مصنوعی ذہانت کے انقلاب کو توانائی کے بحران، عمارتوں کی جلد تکمیل کا مسئلہ درپیش

    مصنوعی ذہانت کے انقلاب کو توانائی کے بحران، عمارتوں کی جلد تکمیل کا مسئلہ درپیش

    نواز شریف کی حکومت بحال ہونے کی خوشی میں یونیورسٹی مٹھائی لے کر گیا تھا، نورالحسن

    نواز شریف کی حکومت بحال ہونے کی خوشی میں یونیورسٹی مٹھائی لے کر گیا تھا، نورالحسن

    اسلام آباد کچہری کے باہر پارکنگ میں کھڑی گاڑی میں دھماکا، 3 افراد زخمی

    اسلام آباد کچہری کے باہر پارکنگ میں کھڑی گاڑی میں دھماکا، 3 افراد زخمی

    شادی کے وقت کہا گیا تھا زیادہ عرصہ شادی نہیں چلے گی، یاسرہ رضوی

    شادی کے وقت کہا گیا تھا زیادہ عرصہ شادی نہیں چلے گی، یاسرہ رضوی

    ڈونلڈ ٹرمپ کا احمد الشراع سے تاریخی ملاقات کے بعد شام کی ہرممکن مدد کے عزم کا اظہار

    ڈونلڈ ٹرمپ کا احمد الشراع سے تاریخی ملاقات کے بعد شام کی ہرممکن مدد کے عزم کا اظہار

    ’بالاکوٹ حملے کے بعد قومی سلامتی کمیٹی نے جنرل باجوہ کے منصوبے کی حمایت کی تھی

    ’بالاکوٹ حملے کے بعد قومی سلامتی کمیٹی نے جنرل باجوہ کے منصوبے کی حمایت کی تھی

    امریکی سینیٹ سے حکومت کے شٹ ڈاؤن کو ختم کرنے کیلئے فنڈنگ بل منظور

    امریکی سینیٹ سے حکومت کے شٹ ڈاؤن کو ختم کرنے کیلئے فنڈنگ بل منظور

    عمران خان اور وزیراعظم کے استثنیٰ کی شق کے درمیان کوئی ’تعلق‘ نہیں، رانا ثنااللہ

    عمران خان اور وزیراعظم کے استثنیٰ کی شق کے درمیان کوئی ’تعلق‘ نہیں، رانا ثنااللہ

    بھاری جرمانوں پر عوامی ردعمل کے بعد حکومت سندھ کا ای چالان کی رقم میں کمی پر غور

    بھاری جرمانوں پر عوامی ردعمل کے بعد حکومت سندھ کا ای چالان کی رقم میں کمی پر غور

    کار دھماکے کی تحقیقات انسداد دہشتگردی قانون کے تحت کی جا رہی ہیں، دہلی پولیس

    کار دھماکے کی تحقیقات انسداد دہشتگردی قانون کے تحت کی جا رہی ہیں، دہلی پولیس

    شدت پسند گروہ افغانستان اور اس سے باہر کی دنیا کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں، وزیراعظم

    شدت پسند گروہ افغانستان اور اس سے باہر کی دنیا کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں، وزیراعظم

    27ویں آئینی ترمیم 2025 کا بل قومی اسمبلی میں پیش

    27ویں آئینی ترمیم 2025 کا بل قومی اسمبلی میں پیش

    کراچی: نجی ہسپتال میں پیدائش کے بعد ’بل کی عدم ادائیگی‘ پر نوزائیدہ بچہ فروخت، مقدمہ درج

    کراچی: نجی ہسپتال میں پیدائش کے بعد ’بل کی عدم ادائیگی‘ پر نوزائیدہ بچہ فروخت، مقدمہ درج

    کراچی: 2 روز قبل گرفتار کالعدم تنظیم کے ارکان دھماکا خیز مواد رکھنے کے مقدمے سے بری

    کراچی: 2 روز قبل گرفتار کالعدم تنظیم کے ارکان دھماکا خیز مواد رکھنے کے مقدمے سے بری

    کراچی: پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس کے دوسرے ایڈیشن کا آغاز

    کراچی: پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس کے دوسرے ایڈیشن کا آغاز

    وزیراعظم نے27ویں ترمیم کی منظوری کیلئے پیپلزپارٹی کی حمایت مانگی ہے، بلاول بھٹو

    وزیراعظم نے27ویں ترمیم کی منظوری کیلئے پیپلزپارٹی کی حمایت مانگی ہے، بلاول بھٹو

    ایران کا تباہ شدہ جوہری تنصیبات پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ تعمیر کرنے کا اعلان

    ایران کا تباہ شدہ جوہری تنصیبات پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ تعمیر کرنے کا اعلان

    کراچی: کنواری کالونی منگھوپیر روڈ سے فتنۃ الخوارج کے انتہائی مطلوب 3 دہشتگرد گرفتار

    کراچی: کنواری کالونی منگھوپیر روڈ سے فتنۃ الخوارج کے انتہائی مطلوب 3 دہشتگرد گرفتار

    نیویارک کا میئر کون ہوگا؟ ڈرامائی انتخاب سے ایک دن قبل زہران ممدانی کو برتری حاصل

    نیویارک کا میئر کون ہوگا؟ ڈرامائی انتخاب سے ایک دن قبل زہران ممدانی کو برتری حاصل

    راولپنڈی: غیر قانونی افغان شہریوں کو جائیداد کرائے پر دینے والے 18 افراد کے خلاف مقدمات درج

    راولپنڈی: غیر قانونی افغان شہریوں کو جائیداد کرائے پر دینے والے 18 افراد کے خلاف مقدمات درج

    نیدرلینڈ کا ساڑھے 3 ہزار سال قدیم مجسمہ مصر کو واپس کرنے کا اعلان

    نیدرلینڈ کا ساڑھے 3 ہزار سال قدیم مجسمہ مصر کو واپس کرنے کا اعلان

    پی ٹی آئی کی جانب سے پنجاب لوکل گورنمنٹ بل کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیے جانے کا امکان

    پی ٹی آئی کی جانب سے پنجاب لوکل گورنمنٹ بل کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیے جانے کا امکان