عارف حبیب گروپ نے پی آئی اے کو 135 ارب روپے میں خرید لیا
یہ نیلامی دوسری کوشش ہے جس میں ایک وقت کی معروف قومی ایئر لائن فروخت کی جا رہی ہے، کیونکہ گزشتہ سال ہونے والی نیلامی ناکام ہو گئی تھی جب واحد پیشکش حکومتی ریفرنس پرائس سے بہت کم رہی تھی، جس کے نتیجے میں تقریباً دو دہائیوں میں ہونے والی پہلی بڑی نجکاری رک گئی تھی
اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری ہوگئی، عارف حبیب گروپ نے خسارے میں چلنے والے قومی ادارے کو 135 ارب روپے میں خرید لیا۔
اس سے قبل نیلامی کے پہلے مرحلے کے اختتام پر دو ممکنہ خریداروں عارف حبیب اور لکی سیمنٹ نے 100 ارب روپے کی مقررہ بنیادی قیمت (reference price) سے زائد کی بولیاں دی تھیں۔
نیلامی کے دوسرے مرحلے کا آغاز 115 ارب روپے کی بنیادی قیمت سے ہوا تھا۔
دوسرے مرحلے کے وقفے سے قبل لکی سیمنٹ نے اپنی بولی پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے 120.25 ارب روپے کر دیا جبکہ اس کے جواب میں عارف حبیب گروپ نے اپنی بولی بڑھا کر 121 ارب روپے کر دی۔
ان بولیوں کے بعد، دونوں کنسورشیمز نے 30 منٹ کے وقفے کا فیصلہ کیا ہے۔
وقفے کے بعد لکی کنسورشیم نے 134 ارب روپے جبکہ اس کے جواب میں عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی بولی لگادی اور اس طرح وہ پی آئی اے کا مالک بن گیا۔
واضح رہے کہ پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی نیلامی ہوئی ہے، 75 فیصد حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا 92.5 فیصد پی آئی اے کو ملے گا جبکہ صرف 7.5 فیصد قومی خزانے میں جائے گا۔
پی آئی اے کے 25 فیصد حصص حکومت کے پاس رہیں گے، تاہم کامیاب بولی دہندہ کو اختیار ہوگا کہ وہ ادائیگی کے بعد باقی 25 فیصد حصص خرید لے یا انہیں حکومت کے پاس ہی رہنے دے۔
معاہدے کے تحت ایک سال تک کسی ملازم کو فارغ نہیں کیا جا سکے گا۔ ملازمین کی پنشن اور مراعات مکمل طور پر محفوظ رہیں گی جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن، طبی سہولتیں اور رعایتی ٹکٹوں کی ذمہ داری ہولڈنگ کمپنی اٹھائے گی۔
قبل ازیں آج منگل کی صبح جمع کرائی گئی سربمہر بولیاں پہلے سے اہل قرار دیے گئے بولی دہندگان لکی سیمنٹ، نجی ایئر لائن ایئر بلیو اور سرمایہ کاری کمپنی عارف حبیب کی جانب سے موصول ہوئیں۔
بولی دینے والے گروپس کے نمائندے ایک ایک کر کے اسلام آباد میں ہونے والی عوامی تقریب میں آئے اور شفاف باکس میں اپنی سربمہر پیشکشیں جمع کرائیں، اس دوران لفافے ڈالنے میں مختصر سی الجھن بھی دیکھنے میں آئی۔ اس تقریب کو سرکاری ٹی وی پر براہِ راست نشر کیا گیا۔
بولیاں موصول ہونے کے بعد اب پی آئی اے سی ایل کی بولی کے لیے ریفرنس پرائس کی منظوری نجکاری کمیشن بورڈ اور کابینہ کمیٹی برائے نجکاری دے گی۔
پورا عمل براہِ راست نشر اور تمام نجی ٹی وی چینلز کے ساتھ ساتھ حکومت کے متعلقہ سوشل میڈیا ہینڈلز پر اسٹریم کیا گیا۔
منگل کو نیلامی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد علی نے کہا کہ اللہ کے فضل سے ہمیں اچھی بولی ملے گی، اچھی سرمایہ کاری آئے گی اور ہم کامیاب ہوں گے۔
یہ نیلامی دوسری کوشش ہے جس میں ایک وقت کی معروف قومی ایئر لائن فروخت کی جا رہی ہے، کیونکہ گزشتہ ہونے والی نیلامی ناکام ہو گئی تھی جب واحد پیشکش حکومتی ریفرنس پرائس سے بہت کم رہی تھی، جس کے نتیجے میں تقریباً دو دہائیوں میں ہونے والی پہلی بڑی نجکاری رک گئی تھی۔
ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قومی ایئر لائن کی نجکاری میں کردار ادا کرنے پر سرکاری حکام اور نجکاری کمیشن کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے زور دیا کہ اس عمل کو شفاف بنایا گیا ہے اور کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا لین دین ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ آج جب نیلامی کا آغاز ہو رہا ہے تو پیش کشیں سربمہر لفافوں میں آئیں گی، شفاف باکس ہوں گے اور براہِ راست نشریات ہوں گی۔ جب قیمت طے ہو جائے گی تو لفافے کھولے جائیں گے، مقابلہ ہو گا اور جس کی بولی سب سے زیادہ ہو گی وہ کامیاب ہو گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ صرف اللہ جانتا ہے بولی کہاں تک جائے گی لیکن اس عمل کو واپس کابینہ کے پاس آنا ہو گا۔
ناکام بولی دہندگان پی آئی اے کے انتظام سے باہر ہوں گے
اس سے قبل محمد علی نے کہا تھا کہ ایک منفرد شرط کے تحت دو ناکام بولی دہندگان کو مستقبل میں ایئر لائن کے انتظام میں کسی بھی کردار سے باہر رکھا جائے گا۔
حالیہ بیانات میں انہوں نے وضاحت کی کہ ہارنے والے بولی دہندگان کو کامیاب بولی دہندہ کے ساتھ شامل ہونے کا کوئی حق نہیں ہو گا، اور صرف وہ گروپس جو نیلامی کا حصہ نہیں تھے نئی انتظامیہ میں شامل ہو سکیں گے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت دوڑ میں شامل تین کنسورشیمز میں سے صرف ایک اکثریتی حصص حاصل کرنے کے بعد قومی ایئر لائن کے انتظام کا حصہ بنے گا جبکہ فوجی فرٹیلائزر کمپنی کے پاس بعد میں ان کے ساتھ شامل ہونے کا اختیار برقرار رہے گا۔
منگل کی بولی سے قبل ایسی اطلاعات سامنے آئیں کہ پس پردہ کم از کم دو فریقین یعنی عارف حبیب اور لکی سیمنٹ گروپس کے درمیان ایک معاہدہ زیر غور آیا تھا جو بعد میں ناکام ہو گیا۔
ایک ٹوئٹ میں سینئر صحافی کامران خان نے ایک ایسے اجلاس کی طرف اشارہ کیا جس میں چار میں سے تین دلچسپی رکھنے والے فریقین کے درمیان کنٹرولنگ شیئر تقسیم کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ تاہم ان کے مطابق یہ انتظام اس وقت ختم ہو گیا جب ایک فریق یعنی محمد علی ٹبہ کی قیادت میں لکی سیمنٹ گروپ نے اس پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔
ٹبہ گروپ اور حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے جو پیش رفت سے آگاہ تھے، اس کی تصدیق کی لیکن وضاحت کی کہ یہ حکومت کی جانب سے کرایا گیا اجلاس نہیں تھا بلکہ ایک غیر رسمی ملاقات تھی۔
محمد علی ٹبہ نے نجکاری کے عمل پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ تجویز اسلام آباد میں ایک ملاقات کے بعد ان کے سامنے رکھی گئی تھی جسے انہوں نے آگے نہیں بڑھایا








































