اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے ای کورٹ نظام کے ذریعے پہلے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے قتل کے ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کر لی۔
چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مقدمے کی سماعت کی۔ای کورٹ نظام کے ذریعے پہلے مقدمے کی سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں یہ ایک بڑا قدم ہے،ای کورٹ سے کم خرچ سے فوری انصاف ممکن ہو سکے گا،دنیا بھر میں پاکستان کی سپریم کورٹ میں ہی ای کورٹ نظام کا پہلی مرتبہ آغاز ہوا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا کہ ای کورٹ نظام سے سائلین پر مالی بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔چیف جسٹس نے آئی ٹی کمیٹی کے ممبران جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس مشیر عالم کو خراج تحسین پیش کیا اورچیئرمین اور ڈی جی نادرا کی کاوشوں کو بھی سراہا۔ای کورٹ کے تحت پہلے مقدمے کے آغاز میں ویڈیو لنک کے ذریعے کراچی سے وکلا نے دلائل کا آغاز کیا۔
چیف جسٹس پاکستان نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ عینی شاہدین کے مطابق نامعلوم افراد نے قتل کیا،اس کیس کے نامزد ملزمان اس واقعہ میں ملوث نہیں ،مقامی پولیس نے کیس کی تفتیشی میں بدنیتی کا مظاہرہ کیاہے۔ شریک ملزمان غلام حسین اور غلام حیدر پہلے ہی ضمانت پر ہیں۔عدالت نے درخواست گزار نور محمد کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کر لی۔
ملزم نور محمد کے خلاف پولیس اسٹیشن شاداب پور 2014میں قتل کا مقدمہ درج ہوا تھا۔سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت کی درخواست کا تاخیر سے فیصلے پر چیف جسٹس نے نوٹس بھی لیا۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ 2014میں وقوعہ ہوا، ٹرائل کورٹ نے 2016میں ضمانت خارج کی،سندھ ہائی کورٹ نے 2016سے 2019تک درخواست ضمانت کا فیصلہ نہ کیا۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اس طرح کے معاملات ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ کے خلاف ہیں۔
چیف جسٹس نے سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل کو ہائی کورٹ کے فیصلے کی کاپی حاصل کرنے کی ہدایت کردی ۔سندھ ہائی کورٹ کے ججز کی ضمانت کی اپیلوں سے متعلق 2ہفتوں میں کیے جانے والے فیصلوں کی رپورٹ بھی طلب کرلی ۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا رپورٹ چئیرمین جوڈیشل کونسل کو دو ہفتوں میں ارسال کی جائے تاکہ مناسب اقدام کیا جائے۔









































