خوراک کی تقسیم کے مراکز یا مقتل گاہ؟ ’وہ روزانہ ایک بوری آٹے کے لیے گولیوں کی زد میں آتے ہیں‘

خوراک کی تقسیم کے مراکز یا مقتل گاہ؟ ’وہ روزانہ ایک بوری آٹے کے لیے گولیوں کی زد میں آتے ہیں‘

حیران کُن نہیں کہ جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے دانستہ طور پر غزہ کی جنگ (نسل کشی) کو طول دی ہے تاکہ وہ کرپشن کے الزامات پر پوچھ گچھ سے بچ سکیں اور اقتدار پر برقرار رہ سکیں۔

جو عنصر حیران کردینے والا ہے وہ یہ ہے کہ کیسے جہموری مغرب جن میں امریکا، برطانیہ، جرمنی اور فرانس قابلِ ذکر ہیں، جو کہتے ہیں کہ وہ ’قواعد پر مبنی عالمی نظام‘ پر یقین رکھتے ہیں، انہوں نے غیر مشروط طور پر نیتن یاہو کی حمایت کی اور عرب یا مسلم حکومتوں نے کس طرح اسرائیل کو ساز و سامان مہیا کرکے فلسطینیوں کے قتلِ عام میں شراکت کی۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ غزہ میں اپنے طور پر کسی ’حتمی حل‘ پر عمل درآمد کیا جارہا ہے جہاں گھروں سے لے کر تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں تک تمام انفرااسٹرکچر کو تباہ کیا جا چکا ہے جبکہ پانی، بجلی، گیس اور سیوریج لائنز بھی تباہ ہوچکی ہیں جبکہ انفرااسٹرکچر کی تباہی کا یہ سلسلہ 22 ماہ پہلے ہونے والے حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے اب تک جاری ہے کہ جس میں 800 اسرائیلی شہری اور 400 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے جبکہ کئی اسرائیلی شہریوں کو یرغمالی بنا لیا گیا تھا (یرغمالیوں کی تعداد تقریباً 50 بتائی جارہی ہے جن میں 20 زندہ ہیں) جن میں سے کچھ اب بھی حماس کی تحویل میں ہیں۔

نیتن یاہو ایسے ایسے معاہدوں سے پیچھے ہٹے کہ جن کے نتیجے میں یرغمالیوں کی واپسی ممکن ہوسکتی اور وہ اپنے خاندانوں سے مل سکتے ہیں جبکہ اس کے بدلے میں اسرائیل کو ان ہزاروں فلسطینیوں کو رہا کرنا تھا کہ جو نسل پرست حکومت کی جانب سے حقیقی طور پر یرغمال ہیں۔ یہ فوجی عدالتوں کے ایسے نام نہاد انتظامی مقامات پر قید کیے گئے ہیں کہ جس کے حوالے سے انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کے تحت کوئی قانونی جواز موجود نہیں۔

جب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا ’غزہ ریورا‘ منصوبہ پیش کیا ہے اور نیتن یاہو نے پُرزور حمایت کی ہے کہ جس میں غزہ کے 20 لاکھ فلسطینیوں کو بےدخل کرنے کی بات کی گئی ہے، اسرائیل غزہ کی تباہی میں شدت لے کر آیا ہے اور اس نے وہاں 80 فیصد گھروں کو زمین بوس کیا ہے جبکہ اسرائیل نے غزہ کے بہت سے تعلیم یافتہ قابل اور بااثر لوگوں کو بھی نشانہ بنا کر شہید کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے جمعے کو امریکی ویب سائٹ ایکسیئوس (Axios) نے رپورٹ کیا کہ اسرائیل کی خارجی سیکیورٹی سروس موساد کے سربراہ نے واشنگٹن پہنچ کر امریکا سے کہا کہ وہ انڈونیشیا، لیبیا اور ایتھوپیا پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تاکہ وہ ممکنہ نکبہ دوم کے نتیجے میں غزہ سے جبراً بےدخل ہونے والے فلسطینیوں کو اپنی زمین پر قبول کریں۔

یہ اقدام امریکا اور اسرائیل کی منافقت ہے جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ’جبر‘ نہیں کیا جائے گا بلکہ وہ ’رضاکارانہ‘ طور پر نقل مکانی کریں گے۔ جی یہ منافقانہ ہے کیونکہ جب 58 ہزار افراد جن میں 15 ہزار 500 بچے اور بڑی تعداد میں نہتی خواتین شامل ہیں، شہید کردیے جائیں اور نسل کشی کرنے والی اسرائیلی حکومت ہر بنیادی انفرااسٹرکچر کو تباہ کردے جو ’زندگی‘ کو فعال یا معاون بناتا ہے، تو ایسے میں کیا کچھ بھی ’رضاکارانہ‘ رہ جائے گا؟ یہ نسل کشی ہے۔

برطانیہ کے ایک نامور ٹراما سینٹر میں کام کرنے والے ایک نوجوان ڈاکٹر نے گزشتہ ہفتے مجھے بتایا تھا کہ اس کے تین ساتھی جو غزہ میں کام کرتے ہیں اور رضاکارانہ بنیادوں پر انسانی جانیں بچاتے ہیں، نے ایک ہولناک تجربہ بیان کیا۔ یہ رضاکار جہاں بھی جاتے ہیں اپنے ذاتی سیٹلائٹ شناخت کنندگان کو اپنے ساتھ لے کر جاتے ہیں جوکہ ایک سگنل دیتا ہے اور یہ ان کی درست لوکیشن کی نشاندہی کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسرائیلی قابض افواج ان سگنلز کی نگرانی کرتی ہیں۔

ڈاکٹر نے بتایا کہ ان کے ساتھیوں نے انہیں بتایا ہے کہ ایک دن انہوں نے غزہ کے ہسپتال میں ایمرجنسی آپریشنز میں 12 گھنٹے تک لگاتار کام کیا اور اپنا کام ختم کرنے کے بعد وہ ساتھ نکلے۔ تقریباً نصف گھنٹے بعد ہسپتال پر بمباری ہوئی۔

قابض افواج غزہ میں کام کرنے والے مغربی رضاکاروں کو ہلاک کرنے سے بہ ظاہر گریز کرتی ہیں لیکن یہ فلسطین کے صحت عامہ کے عملے بشمول ڈاکٹرز کو نشانہ بنانے میں کوئی تردد نہیں برتتیں۔ ان کا قتل عام ’معمول‘ بن چکا ہے بالکل اسی طرح کہ جس طرح کم عمر بچوں کا قتل اور انہیں مفلوج کرنا ان کے لیے عام سی بات ہے۔ فلسطینیوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے جیسے وہ انسانوں سے کم تر ہیں۔

ان کے بڑے پیمانے پر قتل اور ان کے گھروں اور تمام انفرااسٹرکچر کو تباہ کرنے کے بعد اب ان کے خلاف حتمی ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ بھوک اور افلاس۔ امریکا میں قائم تنظیم غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن نے اپنے کرائے کے فوجیوں اور اسرائیلی قابض افواج کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے غزہ میں قتل و غارت کا نیا محاذ تیار کیا ہے۔

’خوراک‘ تقسیم کرنے کے مراکز کو وہ تباہی کے جال کے طور پر استعمال کررہے ہیں جہاں روزانہ کی بنیاد پر بھوک سے بےحال درجنوں فلسطینی خودکار گولیوں کی زد میں آ کر شہید ہو رہے ہیں۔ ’ہم اپنی اقدار کی پاسداری کرتے ہیں‘، کہنے والے مغرب کو اس میں کچھ بھی غلط نظر نہیں آتا۔

حتیٰ کہ گزشتہ ہفتے کے آخر میں انروا (UNRWA) نے ایک ٹویٹ میں درخواست کی کہ اس کے پاس غزہ کی تین ماہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے خوراک کا ذخیرہ موجود ہے اور حکام سے التجا کی کہ وہ غزہ (جوکہ موت، تباہی اور بربادی کی جیل سے زیادہ نہیں) کے دروازے کھول دیں تاکہ وہ بھوک سے پریشان اور مایوس فلسطینیوں تک امدادی سامان پہنچا سکیں جو روزانہ اپنے خاندانوں کے لیے ایک بوری آٹا لانے کے لیے گولیوں کا نشانہ بننے کا خطرہ مول لیتے ہیں۔

گزشتہ 100 سالوں میں ہولوکاسٹ انسانیت کے خلاف بدترین جرائم میں سے ایک تھا۔ دنیا جس نے کہا تھا کہ ’دوبارہ کبھی نہیں‘، غزہ میں جو کچھ ہورہا ہے اسے نظرانداز کررہی ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ کیوں؟ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آیا مغربی ممالک یا علاقائی آمر نیتن یاہو کے فلسطینیوں کو ’عمالک‘ کہنے سے اتفاق کرتے ہیں یا نہیں (اصطلاح جو بائبل میں ایسی برائی کے لیے استعمال ہوئی ہے جسے ختم کرنا ضروری ہے)۔

جو اہم ہے وہ اسرائیلی حکومت کو ہتھیار، رقم اور مکمل مدد فراہم کرتے رہنا ہے جس پر اب نسل کشی کا الزام لگایا جا رہا ہے، حتیٰ کہ قابل احترام یہودی نسل کشی کے ماہرین بھی غزہ میں نسل کشی کا اعتراف کررہے ہیں جو کچھ عرصہ پہلے تک اس اعتراف سے کتراتے تھے۔

اپنی پالیسیز پر نظر ثانی کرنے کے بجائے جس نے ’قواعد پر مبنی نظام‘ کی حمایت کرنے کے ان کے دعوے کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے، امریکا اور اس کے یورپی شراکت دار جیسے برطانیہ، فرانس اور جرمنی، اپنے ہی شہریوں کے خلاف ہی مقدمہ چلا رہے ہیں جو غزہ میں نسل کشی اور جنگی جرائم کے خلاف مظاہرے کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ یہودیوں کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جارہا ہے جن میں ہولوکاسٹ میں زندہ بچ جانے والے افراد اور ان کے اہل خانہ بھی شامل ہیں اور انہیں صرف اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ وہ خاموش رہنے سے انکاری ہیں۔

اس انتہائی افسوس ناک پس منظر میں ایک مدھم سی امید ہے کہ بنیامن نیتن یاہو 28 جولائی کے انتظار کررہے ہیں کہ جب وہ اپنی ذات پر بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے شاید امن معاہدہ کرسکتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوگا کہ جب اسرائیلی پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ تقریباً 3 ماہ کی رخصت پر جارہی ہے۔

یہ گمان اس لیے کیا جارہا ہے کیونکہ امن معاہدہ کرنے کی صورت میں ان کے انتہائی دائیں بازو (کیا آپ یقین کر سکتے ہیں کہ بی بی جیسے انتہائی دائیں بازو کے رہنما سے بھی زیادہ دائیں بازو کے لوگ اسرائیل میں موجود ہیں؟) کے اتحادی شراکت دار ان کی حکومت کو گرا نہیں سکتے اور سپریم کورٹ بھی ان کے خلاف کرپشن کے الزامات پر مقدمے کی سماعت نہیں کرسکتی۔ اس نقطہ نظر کے مطابق امن معاہدے کے بعد انتخابات ہوں گے جن کے نتیجے میں نیتن یاہو کو یقین ہے کہ وہ جیت سکتے ہیں۔ اسے تنکے کا سہارا لینا کہہ سکتے ہیں لیکن ابھی لوگوں کو اس سے زیادہ بھلا کیا امید ہوسکتی ہے؟

  • Related Posts

    ’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید

    ’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید اداکار نے کہا کہ یہ معاملہ بھارت یا پاکستان کا نہیں بلکہ سینما کے خطرناک غلط…

    امریکا نے پاکستان کے ایف 16 طیاروں کے لیے 68 کروڑ ڈالر کے اپ گریڈ پیکج کی منظوری دے دی

    امریکا نے پاکستان کے ایف 16 طیاروں کے لیے 68 کروڑ ڈالر کے اپ گریڈ پیکج کی منظوری دے دی یہ فروخت آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ اور سالانہ مالی قوانین…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    یہ بھی پڑھئے

    ’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید

    ’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید

    امریکا نے پاکستان کے ایف 16 طیاروں کے لیے 68 کروڑ ڈالر کے اپ گریڈ پیکج کی منظوری دے دی

    امریکا نے پاکستان کے ایف 16 طیاروں کے لیے 68 کروڑ ڈالر کے اپ گریڈ پیکج کی منظوری دے دی

    ’قانون میرے فائدے کیلئے نہیں بنایا گیا تھا‘ مریم نواز کا پراپرٹی ایکٹ کی معطلی پر اظہار تشویش

    ’قانون میرے فائدے کیلئے نہیں بنایا گیا تھا‘ مریم نواز کا پراپرٹی ایکٹ کی معطلی پر اظہار تشویش

    انٹرنیشنل فنانس کاپوریشن کا پاکستان میں پہلی مقامی کرنسی سرمایہ کاری کا اعلان

    انٹرنیشنل فنانس کاپوریشن کا پاکستان میں پہلی مقامی کرنسی سرمایہ کاری کا اعلان

    اپوزیشن کو پہلے بھی دعوت دی، اب بھی مذاکرات کیلئے تیار ہیں، وزیراعظم

    اپوزیشن کو پہلے بھی دعوت دی، اب بھی مذاکرات کیلئے تیار ہیں، وزیراعظم

    خیبرپختونخوا: کرک میں پولیس وین پر دہشتگردوں کا حملہ، پانچ پولیس اہلکارشہید

    خیبرپختونخوا: کرک میں پولیس وین پر دہشتگردوں کا حملہ، پانچ پولیس اہلکارشہید

    عارف حبیب گروپ نے پی آئی اے کو 135 ارب روپے میں خرید لیا

    عارف حبیب گروپ نے پی آئی اے کو 135 ارب روپے میں خرید لیا

    ٹک ٹاک کا پاکستان میں چھوٹے کاروبار کیلئے سیلف سروس ایڈورٹائزنگ پلیٹ فارم متعارف

    ٹک ٹاک کا پاکستان میں چھوٹے کاروبار کیلئے سیلف سروس ایڈورٹائزنگ پلیٹ فارم متعارف

    پاکستانی کوہ پیما ثمینہ بیگ نے نئی تاریخی کامیابی حاصل کرلی

    پاکستانی کوہ پیما ثمینہ بیگ نے نئی تاریخی کامیابی حاصل کرلی

    شوگر انڈسٹری کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے پالیسی ڈرافٹ تیار

    شوگر انڈسٹری کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے پالیسی ڈرافٹ تیار

    چناب کے بہاؤ میں اچانک تبدیلی پر پاکستان کا اظہارِ تشویش، بھارت سے وضاحت طلب

    چناب کے بہاؤ میں اچانک تبدیلی پر پاکستان کا اظہارِ تشویش، بھارت سے وضاحت طلب

    ’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید

    ’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید

    بھارت میں مسلم خاتون کے حجاب کھینچنے کے واقعے کی شکایت درج

    بھارت میں مسلم خاتون کے حجاب کھینچنے کے واقعے کی شکایت درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا جسٹس جہانگیری کو عہدے سے ہٹانے کا حکم، ڈگری تقرری کے وقت ’غیر معتبر‘ قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا جسٹس جہانگیری کو عہدے سے ہٹانے کا حکم، ڈگری تقرری کے وقت ’غیر معتبر‘ قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بلدیاتی الیکشن اور سی ڈی اے کو تحلیل کرنے سے متعلق سنگل بینچ کا فیصلہ معطل

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بلدیاتی الیکشن اور سی ڈی اے کو تحلیل کرنے سے متعلق سنگل بینچ کا فیصلہ معطل

    چلاس میں شاہراہ قراقرم پر لینڈسلائیڈنگ، 6 گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں، 2 دریا میں جاگریں

    چلاس میں شاہراہ قراقرم پر لینڈسلائیڈنگ، 6 گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں، 2 دریا میں جاگریں

    شدت پسند گروہ افغانستان اور اس سے باہر کی دنیا کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں، وزیراعظم

    شدت پسند گروہ افغانستان اور اس سے باہر کی دنیا کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں، وزیراعظم

    اسلام آباد کچہری کے باہر خود کش بمبار کے حملے میں 12 افراد شہید، 22 زخمی

    اسلام آباد کچہری کے باہر خود کش بمبار کے حملے میں 12 افراد شہید، 22 زخمی

    پاک فوج نے تیسری انٹر سروسز کامبیٹ شوٹنگ چیمپئن شپ 2025 جیت لی

    پاک فوج نے تیسری انٹر سروسز کامبیٹ شوٹنگ چیمپئن شپ 2025 جیت لی

    مصنوعی ذہانت کے انقلاب کو توانائی کے بحران، عمارتوں کی جلد تکمیل کا مسئلہ درپیش

    مصنوعی ذہانت کے انقلاب کو توانائی کے بحران، عمارتوں کی جلد تکمیل کا مسئلہ درپیش

    نواز شریف کی حکومت بحال ہونے کی خوشی میں یونیورسٹی مٹھائی لے کر گیا تھا، نورالحسن

    نواز شریف کی حکومت بحال ہونے کی خوشی میں یونیورسٹی مٹھائی لے کر گیا تھا، نورالحسن

    اسلام آباد کچہری کے باہر پارکنگ میں کھڑی گاڑی میں دھماکا، 3 افراد زخمی

    اسلام آباد کچہری کے باہر پارکنگ میں کھڑی گاڑی میں دھماکا، 3 افراد زخمی

    شادی کے وقت کہا گیا تھا زیادہ عرصہ شادی نہیں چلے گی، یاسرہ رضوی

    شادی کے وقت کہا گیا تھا زیادہ عرصہ شادی نہیں چلے گی، یاسرہ رضوی

    ڈونلڈ ٹرمپ کا احمد الشراع سے تاریخی ملاقات کے بعد شام کی ہرممکن مدد کے عزم کا اظہار

    ڈونلڈ ٹرمپ کا احمد الشراع سے تاریخی ملاقات کے بعد شام کی ہرممکن مدد کے عزم کا اظہار

    ’بالاکوٹ حملے کے بعد قومی سلامتی کمیٹی نے جنرل باجوہ کے منصوبے کی حمایت کی تھی

    ’بالاکوٹ حملے کے بعد قومی سلامتی کمیٹی نے جنرل باجوہ کے منصوبے کی حمایت کی تھی

    امریکی سینیٹ سے حکومت کے شٹ ڈاؤن کو ختم کرنے کیلئے فنڈنگ بل منظور

    امریکی سینیٹ سے حکومت کے شٹ ڈاؤن کو ختم کرنے کیلئے فنڈنگ بل منظور

    عمران خان اور وزیراعظم کے استثنیٰ کی شق کے درمیان کوئی ’تعلق‘ نہیں، رانا ثنااللہ

    عمران خان اور وزیراعظم کے استثنیٰ کی شق کے درمیان کوئی ’تعلق‘ نہیں، رانا ثنااللہ

    بھاری جرمانوں پر عوامی ردعمل کے بعد حکومت سندھ کا ای چالان کی رقم میں کمی پر غور

    بھاری جرمانوں پر عوامی ردعمل کے بعد حکومت سندھ کا ای چالان کی رقم میں کمی پر غور

    کار دھماکے کی تحقیقات انسداد دہشتگردی قانون کے تحت کی جا رہی ہیں، دہلی پولیس

    کار دھماکے کی تحقیقات انسداد دہشتگردی قانون کے تحت کی جا رہی ہیں، دہلی پولیس

    شدت پسند گروہ افغانستان اور اس سے باہر کی دنیا کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں، وزیراعظم

    شدت پسند گروہ افغانستان اور اس سے باہر کی دنیا کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں، وزیراعظم

    27ویں آئینی ترمیم 2025 کا بل قومی اسمبلی میں پیش

    27ویں آئینی ترمیم 2025 کا بل قومی اسمبلی میں پیش

    کراچی: نجی ہسپتال میں پیدائش کے بعد ’بل کی عدم ادائیگی‘ پر نوزائیدہ بچہ فروخت، مقدمہ درج

    کراچی: نجی ہسپتال میں پیدائش کے بعد ’بل کی عدم ادائیگی‘ پر نوزائیدہ بچہ فروخت، مقدمہ درج

    کراچی: 2 روز قبل گرفتار کالعدم تنظیم کے ارکان دھماکا خیز مواد رکھنے کے مقدمے سے بری

    کراچی: 2 روز قبل گرفتار کالعدم تنظیم کے ارکان دھماکا خیز مواد رکھنے کے مقدمے سے بری

    کراچی: پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس کے دوسرے ایڈیشن کا آغاز

    کراچی: پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس کے دوسرے ایڈیشن کا آغاز

    وزیراعظم نے27ویں ترمیم کی منظوری کیلئے پیپلزپارٹی کی حمایت مانگی ہے، بلاول بھٹو

    وزیراعظم نے27ویں ترمیم کی منظوری کیلئے پیپلزپارٹی کی حمایت مانگی ہے، بلاول بھٹو

    ایران کا تباہ شدہ جوہری تنصیبات پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ تعمیر کرنے کا اعلان

    ایران کا تباہ شدہ جوہری تنصیبات پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ تعمیر کرنے کا اعلان

    کراچی: کنواری کالونی منگھوپیر روڈ سے فتنۃ الخوارج کے انتہائی مطلوب 3 دہشتگرد گرفتار

    کراچی: کنواری کالونی منگھوپیر روڈ سے فتنۃ الخوارج کے انتہائی مطلوب 3 دہشتگرد گرفتار

    نیویارک کا میئر کون ہوگا؟ ڈرامائی انتخاب سے ایک دن قبل زہران ممدانی کو برتری حاصل

    نیویارک کا میئر کون ہوگا؟ ڈرامائی انتخاب سے ایک دن قبل زہران ممدانی کو برتری حاصل

    راولپنڈی: غیر قانونی افغان شہریوں کو جائیداد کرائے پر دینے والے 18 افراد کے خلاف مقدمات درج

    راولپنڈی: غیر قانونی افغان شہریوں کو جائیداد کرائے پر دینے والے 18 افراد کے خلاف مقدمات درج

    نیدرلینڈ کا ساڑھے 3 ہزار سال قدیم مجسمہ مصر کو واپس کرنے کا اعلان

    نیدرلینڈ کا ساڑھے 3 ہزار سال قدیم مجسمہ مصر کو واپس کرنے کا اعلان

    پی ٹی آئی کی جانب سے پنجاب لوکل گورنمنٹ بل کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیے جانے کا امکان

    پی ٹی آئی کی جانب سے پنجاب لوکل گورنمنٹ بل کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیے جانے کا امکان